.

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات پر شوبز سے وابستہ خواتین کا ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع قصور کی سات سالہ زینب کے جنسی زیادتی کے بعد قتل نے بہت سے لوگوں کے پرانے زخموں کو ادھیڑ دیا ہے اور وہ برسوں سے اپنی زبان اور روح پر لگی اس خود ساختہ چپ کو جو خاندان کی عزت کی خاطر انھوں نے سادھ رکھی تھی، توڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جب معروف اداکارہ نادیہ جمیل نے اپنی کہانی سنائی تو ان کے بعد ماڈلنگ اور ایونٹ مینجمنٹ کے شعبے میں نام کمانے والی فریحہ الطاف بھی بول اٹھیں اور پھر ڈیزائنر ماہین خان آگے بڑھیں۔

سوشل میڈیا پر اس بحث کا آغاز اداکارہ نادیہ جمیل کی ٹویٹس سے ہوا تھا۔

انھوں نے لکھا کہ ’مجھے اپنے قاری صاحب، میرے ڈرائیور اور پھر ایک اعلی تعلیم یافتہ گھرانے کے بیٹے نے اور اب لندن میں ایک خوشحال شادی شدہ زندگی گزارنے والے شخص نے، جنسی طور پر ہراساں کیا۔ یہ ہر جگہ ہے۔ مرد ہر سطح پر زیادتی کرتے ہیں۔ میرا خاندان اب بھی چاہتا ہے کہ میں چپ رہوں۔ لیکن یہ شرمندگی میری نہیں ہے۔ کبھی نہیں۔‘

فریحہ الطاف نے اس بارے میں بتایا 'کہ جب میرے ماں باپ چھٹیوں پر گھر سے باہر تھے تو میرے گھر میں موجود خانساماں نے میرے ساتھ ایسا کیا تھا۔ میرے ماں باپ نے اسے پولیس کے حوالے تو کیا لیکن میرے ساتھ کبھی اس پر بات نہیں کی۔ چپ رہنے میں خاندان کی عزت تھی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’جب میں 34 برس کی عمر میں کینیڈا گئی تو مجھے سمجھ آیا کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے۔ چپ رہنے سے اثر ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کو معلوم ہے کہ خاندان ان باتوں کو تو چھپاتے ہیں، ہم بات نہیں کرتے چپ رہتے ہیں، بچوں کو اس وقت پتہ نہیں چلتا کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا، اور بعد میں جا کر اثر بہت زیادہ ہوتا ہے اور میرے ساتھ ایسا ہی ہوا۔‘

پاکستان میں فیشن انڈسٹری میں نمایاں مقام حاصل کرنے والی شخصیت ماہین خان نے ٹوئٹر پر لکھا کہ وہ اپنی بات بچوں کی مدد کے لیے لکھ رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’جو مولوی مجھے قرآن پڑھانے آتا تھا اس نے مجھے جنسی ہراس کا نشانہ بنایا۔ میں خوف سے سکتے میں آ گئی۔ یہ بچوں کی سپورٹ میں شئیر کیا ہے جو اپنے مذہب کے نام نہاد رکھوالوں کے بیمار افعال کا شکار ہوتے ہیں۔‘


ان تینوں کی جانب سے اپنے بچپن کی اذیت ناک یادیں شیئر کرنے اور یہ معاملہ اٹھانے پر انھیں عوام و خواص کی جانب سے خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ اداکارہ ماہرہ خان کہتی ہیں کہ بہادر خواتین آپ کا شکریہ، آپ کو مزید طاقت ملے۔

خیال رہے کہ 4 جنوری کو شہر قصور میں 6 سالہ بچی زینب کو اپنے گھر کے قریب روڈ کوٹ کے علاقے میں ٹیوشن جاتے ہوئے اغوا کرلیا گیا تھا۔

جس وقت زینب کو اغوا کیا گیا اس وقت اس کے والدین عمرے کی ادائیگی کے سلسلے میں سعودی عرب میں تھے جبکہ اہل خانہ کی جانب سے زینب کے اغوا سے متعلق مقدمہ بھی درج کرایا گیا تھا لیکن پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

پانچ روز بعد 9 جنوری کو ضلع قصور میں شہباز خان روڈ پر ایک کچرے کے ڈھیر سے زینب کی لاش ملی تو ابتدائی طور پر پولیس کا کہنا تھا کہ بچی کو گلا دبا کر قتل کیا گیا۔

بعد ازاں پولیس کی جانب سے بچی کا پوسٹ مارٹم بھی کرایا گیا اور لاش کو ورثا کے حوالے کردیا گیا تھا تاہم یہ بھی اطلاعات تھیں کہ بچی کو قتل کرنے سے قبل مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔