.

سوات میں پاک آرمی کے یونٹ پر خودکش بم حملہ ، 11 فوجی شہید

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ایک ای میل میں خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں آرمی کے ایک یونٹ پر خودکش بم دھماکے میں گیارہ فوجی شہید اور تیرہ زخمی ہوگئے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ایک بیان کے مطابق خودکش بمبار نے سوات کے علاقے کبل میں ایک آرمی یونٹ کی کھیلوں کی جگہ پر حملہ کیا ہے۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) نے صحافیوں کو بھیجی گئی ایک ای میل میں اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

آئی ایس پی آر نے قبل ازیں اس بم دھماکے میں تین فوجیوں کی شہادت کی اطلاع دی تھی۔ بعد میں آٹھ شدید زخمی فوجی اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر خالقِ حقیقی سے جاملے ہیں۔شہداء میں ایک فوجی افسر بھی شامل ہے۔تمام زخمیوں کو سیدو شریف میں واقع کمبائنڈ ملٹری اسپتال ( سی ایم ایچ ) میں منتقل کردیا گیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ حملہ آور بمبار نے ہفتے کی شام خود کو ایک گراؤنڈ میں دھماکے سے اڑایا تھا جہاں فوجی والی بال کھیل رہے تھے۔سکیورٹی فورسز نے دھماکے کے فوری بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور حملہ آور کے کسی اور ممکنہ ساتھی کی تلاش شروع کردی۔

واضح رہے کہ وادیِ سوات میں 2007 ء سے 2009ء تک کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبضہ کیے رکھا تھا اور وہاں اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔اس کے بعد پاک فوج نے ان جنگجوؤں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی تھی۔ انھیں ہلاک کردیا تھا یا وہاں سے نکال باہر کیا تھا اور حکومت کی عمل داری قائم کر دی تھی۔اس کے بعد سے انتہا پسند جنگجو سکیورٹی فورسز یا ان کے ساتھ تعاون کرنے والے مقامی سیاسی لیڈروں پر حملے کرتے رہے ہیں۔سوات میں گذشتہ تین سال کے بعد سکیورٹی فورسز پر یہ پہلا بڑا حملہ ہے۔