.

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 'سجنا' کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے گزشتہ ہفتے افغان سرحد کے قریب ہوئے امریکی ڈرون حملے میں اپنے نائب سربراہ کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔ پاکستانی طالبان کے ڈپٹی چیف کی موت کو اس تنظیم کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

کمانڈر خان سید محسود المعروف سجنا کی موت کی تصدیق طالبان کے اس دھڑے کی جانب سے پیر کے روز کی گئی۔ طالبان عسکریت پسندوں کے ہاتھوں گذشتہ ایک دہائی سے بھی زیادہ کے عرصے میں قریب ستر ہزار پاکستانی دہشت گردانہ حملوں میں مارے گئے ہیں۔

سجنا، پاکستانی طالبان میں سب سے بڑے اور خطرناک ترین گروہ کا کمانڈر تھا۔ اطلاعات کے مطابق اُسے گزشتہ ہفتے پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ شمالی وزیرستان کا علاقہ ایک عرصے تک عسکریت پسندوں کے زیر تسلط رہا ہے۔

سجنا کی موت کے حوالے سے کئی دن سے افواہیں گردش میں تھیں۔ تاہم آج پاکستانی طالبان کے میڈیا پر اپنے کمانڈر کی ہلاکت کے تصدیقی بیان جاری کرنے کے بعد ان افواہوں نے دم توڑ دیا ہے۔

سن 2015 میں بھی میڈیا نے افغانستان میں ہوئے ایک ڈرون حملے میں سجنا کی موت کی خبر دی تھی تاہم بعد میں یہ خبر غلط ثابت ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ خبر رساں ادارے اس بار خان سید محسود المعروف سجنا کی موت کی افواہوں کے باوجود اس کی خبر دینے کے بارے میں محتاط تھے۔

خان سید تحریک طالبان پاکستان کا بانی اور سن 2009ء میں ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے بیت اللہ محسود کا قریبی ساتھی تھا۔ سن 2011 میں سجنا کو اس وقت اہمیت حاصل ہوئی جب اس کا نام پاکستان کے شہر کراچی میں نیوی کی بیس پر حملے کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر سامنے آیا تھا۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ پاکستانی طالبان نے سجنا کے بعد ان کی جگہ مفتی نور ولی محسود مقرر کیا ہے۔ نئے سربراہ کے متعلق اس سے زیادہ ابھی تک کچھ معلوم نہیں کہ وہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرتا رہا ہے۔