.

افغانستان پر مذاکرات انڈونیشیا کی میزبانی میں، پاکستانی علماء کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں امن وسلامتی سے متعلق انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں 11 مئی بروز جمعہ مذہبی رہنماؤں کی سہ فریقی کانفرنس ہونے والی ہے جس میں انڈونیشیا، پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے علماء دین شرکت کریں گے۔

پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز کے مطابق پاکستان سے 20 رکنی وفد منگل کی شب جکارتہ کے لیے روانہ ہوگا، جس میں ’’تمام مکاتب فکر کے علما شامل ہیں۔‘‘ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ انڈونیشیا کے صدر کی دعوت پر کانفرنس ہو رہی ہے۔یہ تینوں ممالک کے علمائ دین کی ایک غیر معمولی کانفرنس ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان کے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں علما اور مذہبی شخصیات نے متفقہ طور پر ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں دہشت گردی کو اسلام کے منافی اور طاقت کے زور پر اپنے نظریات مسلط کرنے والوں کو اسلامی تعلیمات کا باغی قرار دیا گیا، اس متفقہ بیانیے کو “پیغام پاکستان” کا نام دیا گیا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت پاکستان کی کاوش سے استفادہ کرنا چاہتی ہے۔

افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کے مطابق، جکارتہ میں ہونے والی کانفرنس میں افغانستان کا 15 رکنی وفد شرکت کرے گا۔افغان اعلیٰ امن کونسل کے ترجمان سید احسان کے مطابق، تینوں ممالک کے ایک روزہ کانفرنس کے اختتام پر افغانستان اور خطے میں امن سے متعلق اعلامیہ جاری کریں گے۔یہ کانفرنس اس سے قبل اپریل میں ہونا تھی، لیکن عین وقت پر اسے مؤخر کر دیا گیا۔