پاکستان کے تیرھویں صدر ڈاکٹر عارف علوی کی حلف برداری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

پاکستان کے نئے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔حلف برداری کی تقریب اتوار کی دوپہر ایوانِ صدر اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔پاکستان کے چیف جسٹس جناب جسٹس میاں ثاقب نثار نے ان سے حلف لیا ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی پاکستان کے تیرھویں صدر ہیں ۔ ان کے پیش رو صدر ممنون حسین ہفتہ 8 ستمبر کو اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری ہونے کے بعد سبکدوش ہوگئے ہیں۔ڈاکٹر علوی حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے بانی سینیر رہ نما ہیں۔ وہ ملک میں 25 جولائی کو منعقدہ عام انتخاب میں کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 247 سے رکن منتخب ہوئے تھے۔اب صدر کی حیثیت سے ان کی حلف برداری کے بعد ان کی یہ نشست خالی ہوگئی ہے۔

حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم عمران خان،ان کی کابینہ کے ارکان، تینوں مسلح افواج کے سربراہان ، سینیٹ کے چئیرمین صادق سنجرانی ، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ، صوبائی وزرائے اعلیٰ ، اعلیٰ سرکاری افسروں ، پارلیمان کے ارکان ، عدالتِ عظمیٰ کے جج صاحبان ، غیر ملکی سفارت کاروں اور اہم شخصیات نے شرکت کی۔

اس تقریب کے بعد پاکستان کی مسلح افواج کے ایک چاق چوبند دستے نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔اس کے ساتھ ہی پاکستان میں سیاسی انتقال اقتدار کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی 1949ء میں پیدا ہوئے تھے ۔ وہ پیشے کے اعتبار سے دانتوں کے ڈاکٹر ( ڈینٹسٹ) ہیں۔ ان کا سیاسی کیرئیر پانچ عشروں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔وہ لاہور کے مونٹمورینسی کالج آف ڈینٹسٹری میں دوران تعلیم طلبہ سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے تھے اور کالج کی طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے تھے۔وہ ایک سابق فوجی صدر ایوب خان کے خلاف 1969ء میں احتجاجی تحریک کے دوران میں بازو میں گولی لگنے سے زخمی ہوگئے تھے۔

وہ 1977ء میں پہلی مرتبہ ایک انتخابی امیدوار کی حیثیت سے سیاسی میدان میں اترے تھے ۔انھیں پاکستان قومی اتحاد نے کراچی سے سندھ اسمبلی کا امیدوار نامزد کیا تھا لیکن اتحاد نے انتخابات کا بائیکاٹ کردیا تھا اور وہ انتخابی دوڑ سے باہر ہوگئے تھے۔

ڈاکٹر عارف علوی پاکستان تحریک انصاف کے بانی لیڈروں میں سے ایک ہیں اور انھیں جماعت کے چیئرمین اور وزیراعظم عمران خان کے معتمد ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔انھوں نے اس جماعت کے ٹکٹ پر 1997ء میں پہلی مرتبہ عام انتخابات میں حصہ لیا تھا لیکن وہ پی ٹی آئی کے باقی قریباً ایک سو ا میدواروں کی طرح بری طرح شکست سے دوچار ہوگئے تھے۔ وہ کراچی کے علاقے کلفٹن سے سندھ اسمبلی کی رکنیت کے امیدوار تھے مگر صرف دو ہزار ووٹ حاصل کرسکے تھے۔2002ء میں منعقدہ عام انتخابات میں بھی انھیں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔

وہ 2006ء سے 2013ء تک پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل رہے تھے۔وہ 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات میں پہلی مرتبہ کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 250 ( اب 247) سے رکن منتخب ہوئے تھے۔صوبہ سندھ سے پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں یہ واحد نشست تھی۔

وہ گذشتہ ہفتے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر پانچ سالہ مدت کے لیے ملک کے نئے صدر منتخب ہوئے تھے۔انھوں نے پارلیمان اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل صدارتی الیکٹورل کالج سے 352 ووٹ حاصل کیے تھے۔ان کے مدمقابل مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ متحدہ مجلس عمل کے امیدوار مولانا فضل الرحمان نے185 اور پاکستان پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار چودھری اعتزاز احسن نے 124 ووٹ حاصل کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں