.

سعودی وفد کا گوادر بندرگاہ کا دورہ ، سی پیک منصوبوں کے بارے میں بریفنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے چھے رکنی سرکاری وفد نے منگل کے روز گوادر بندرگاہ کا دورہ کیا ہے ۔اس موقع پر وفد کو پاک چین اقتصادی راہ داری ( سی پیک) کے تحت زیر عمل مختلف منصوبوں اور ترقیاتی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا ۔

سعودی عرب کا اعلیٰ سطح کا وفد وزارت ِ توانائی ، صنعت اور قدرتی وسائل کے مشیر احمد حمید الغامدی کی قیادت میں ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہے۔وفد نے گوادر بندرگاہ کے مختلف شعبوں اور اس کے فری زون کو بھی ملاحظہ کیا۔ سعودی ٹیم کو گوادر بندرگاہ سے متعلق سی پیک کے منصوبوں اور ادارہ ترقیات گوادر ( جی ڈے اے ) کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔

وفد کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے سرمایہ کاروں کو مہیا کی جانے والی سہولتوں اور سکیورٹی انتظامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

سعودی وفد نے گوادر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی اور علاقے میں مہیا کی جانے والی سہولتوں اور سکیورٹی کی صورت حال کے بارے میں اپنے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ وفد کے سربراہ احمد الغامدی نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی ، مذہبی اور برادرانہ تعلقات استوار ہیں۔

انھوں نے پاکستانی حکام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ سعودی عرب ماضی میں ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ وہ مستقبل میں بھی ایسا کرے گا اور اس کا ساتھ دے گا‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت پاکستان میں جاری ترقیاتی عمل میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

سعودی وفد کے اس پانچ روزہ دورے کے اختتام پر اسلام آباد اور الریاض کے درمیان تیل اور قدرتی وسائل کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمت کی چار یاد داشتوں پر دست خط کیے جائیں گے۔سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اس دوطرفہ تعاون کو بعد ازاں چین کے بیلٹ اور روڈ اقدام تک توسیع دی جائے گی ۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کو گوادر میں حکومت کی جانب سے ایک قطعہ اراضی الاٹ کیا جائے گا جہاں وہ جدید ٹیکنالوجی کاحامل تیل صاف کرنے کا کارخانہ لگائے گا ۔اس پر 9 ارب ڈالرز لاگت آئے گی اور اس میں یومیہ پانچ لاکھ بیرل تیل صاف کرنے کی گنجائش ہوگی۔

اس کے علاو ہ سعودی عرب گوادر میں اپنی تیل کی ایک ذخیرہ گاہ بھی بنائے گا جہاں20 سے 30 ٹن تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی۔اس سے سعودی عرب کو اپنی تیل کی برآمدات کے فروغ میں مدد ملے گی۔پاکستان نے سعودی عرب کو آئیل ریفائنری کی تعمیر میں سرمایہ کاری کی صورت میں 16 فی صد کی شرح سے منافع دینے کا وعدہ کیا ہے۔