چین کو سی پیک میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری پر کوئی اعتراض نہیں: سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسلام آباد میں متعیّن چینی سفیر یاؤ جِنگ نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو سعودی عرب کی جانب سے چین پاکستان اقتصادی راہ داری ( سی پیک) کے تحت منصوبوں میں سرمایہ کاری پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

انھوں نے کوئٹہ پریس کلب میں بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم سی پیک میں سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتے ہیں‘‘۔چینی سفیر نے بتایا کہ پاکستان میں نئی حکومت کے قیا م کے بعد سی پیک کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس میں نئے منصوبے شامل کرنے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔دونوں فریق سی پیک کے تحت موجودہ منصوبوں پر کام جاری رکھیں گے اور انھیں مقررہ شیڈول کے مطابق مکمل کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں ہم مشترکہ منصوبوں اور سماجی شعبے پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے ۔نیز ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مغربی صوبوں کو زیادہ وسائل مہیا کیے جانے چاہییں‘‘۔

یاؤ جِنگ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وسط ایشیائی ریاستوں کو افغانستان کے راستے سی پیک سے منسلک کیا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ سی پیک سے خطے میں ترقی اور خوش حالی کے نئے اُفق کھلیں گے۔

چینی سفیر نے بتایا کہ سی پیک ایک نئے دور میں داخل ہوگیا ہے ۔اس کے تحت مختلف منصوبوں میں پاکستانی لوگو ں کے لیے ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔صوبہ بلوچستان میں زراعت ، مویشی بانی ، کان کنی اور معدنیات میں سرمایہ کاروں کے لیے بہت سے مواقع موجود ہیں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کے بعد حکومت نے مملکت کے پاکستان کے ساتھ تین سمجھوتے طے پانے کی اطلاع دی تھی اور کہا تھا کہ سعودی عرب سی پیک کے تحت سڑکوں کی تعمیر اور توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔

تاہم حکومت نے واضح کیا تھا کہ سعودی عرب 50 ارب ڈالرز مالیت کے سی پیک فریم ورک کا تیسرا شراکت دار نہیں ہوگا بلکہ اس کے ساتھ الگ سے دو طرفہ سمجھوتے طے کیے جائیں گے۔وزیراعظم کے دورے کے بعد سعودی عرب کا اعلیٰ سطح کا ایک وفد پاکستان آیا تھا اور اس نے گوادر میں تیل صاف کرنے کے ایک کارخانے کے قیام سمیت مختلف منصوبوں میں سرمایہ لگانے میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں