2030ء میں پاکستان دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے ساتھ کھڑا ہوگا: شہزادہ محمد بن سلمان

پاکستان میں خود کو اپنے گھر ہی میں محسوس کرتا ہوں،قیادت اس ملک کو جائز مقام تک پہنچائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ’’ ہم پاکستان کے مستقبل میں یقین رکھتے ہیں۔اس کے لیے ترقی کرنے کا بہت اچھا موقع ہے۔2030ء میں پاکستان دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ ایک تو چین 2030ء میں بڑی معیشت ہوگا۔دوم، بھارت تیسری بڑی معیشت ہوگا ۔اس لیے پاکستان ان ہمسایہ ممالک سے یقیناً فائدہ اٹھائے گا‘‘۔

وہ پاکستان کے دوروزہ تاریخی اور کامیاب دورے کے اختتام پر نورخان ائیربیس چک لالہ، راول پنڈی میں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ مشترکہ الوداعی نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے اس ملک کے ساتھ اپنی گہری محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ پاکستان میں خود کو اپنے گھر ہی میں محسوس کرتے ہیں‘‘۔

انھوں نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی قیادت پر اپنے یقین کا اعادہ کیا اور کہا کہ ’’یہاں ایک زبردست قیادت موجود ہے جو ملک کو اس کے جائز مقام تک پہنچائے گی اور ہم ایسا ہوتا ہوا دیکھیں گے‘‘۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ’’ ہم نے 2018ء میں پاکستان کی معیشت میں پانچ فی صد کی شرح سے بڑھوتری ملاحظہ کی ہے۔ہمیں یقین ہے کہ پاکستان میں ترقی کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔یہ مستقبل میں بآسانی دنیا کی 20 معیشتوں میں سے ایک ہوسکتا ہے۔پاکستان کی قیادت کوشش کرے ، اس کے عوام اور اتحادی مل جل کر کام کریں تو یقینی طور پر وہ ایک دن اس منزل کو پاسکتے ہیں‘‘۔

’’اسی بنا پر ہم پاکستان میں یقین رکھتے ہیں۔ ہمارے درمیان طویل المیعا د دیرینہ تعلقات استوار ہیں اور اس کے پیش نظر ترقی کے اس سفر میں ہم پاکستان کا ساجھی بننا چاہتے ہیں۔اس کے لیے ہم اپنی دولت اور اپنی کوششیں داؤ پر لگانے کو تیار ہیں اور اس کا آغاز پہلے دن سے چاہتے ہیں‘‘۔ انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔

نیوز کانفرنس میں سعودی ولی عہد نے اپنی گفتگو کا اختتام ان الفاظ پر کیا:’’ ہم نے آج جو کچھ کیا ہے،یہ تو ایک آغاز ہے ،ہمیں امید ہے کہ مستقبل قریب میں ہم مزید بھی اقدام کریں گے اور پاکستان کے ساتھ مزید شراکت داری کریں گے‘‘۔

ان سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے گفتگو کرتے ہوئے سعودی عرب میں قید دوہزار سے زیادہ پاکستانیوں کی رہائی کا اعلان کرنے پر معزز مہمان کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے ازراہِ تفنن طبع سعودی ولی عہد سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’’ آج صبح جب میں بیدار ہوا اور میں نے اپنا موبائل فون دیکھا تو مجھے گذشتہ شب آپ کی کہی ہوئی اس بات کی اہمیت کا حقیقی احساس ہوا کہ آپ سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر ہوں گے۔ آپ پاکستان میں بہت مقبول ہیں اور اگر آپ یہاں انتخابات میں حصہ لیں تو آپ مجھ سے زیادہ ووٹ حاصل کرلیں گے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے اعلان پر میں ملک کے عوام کی جانب سے آپ کا شکر گزار ہوں۔آپ کے دورے کے موقع پر 20 ارب ڈالرز مالیت کے جن سمجھوتوں پر دست خط کیے گئے ہیں ، میں اس پر بھی آپ کا ممنون ہوں‘‘۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’’ان سمجھوتوں کے طے پانے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کہیں وسیع تر ہوگئے ہیں، انھیں نئی جہتیں ملی ہیں لیکن میں پھر بھی یہ محسوس کرتا ہوں کہ یہ تو ابھی ایک آغاز ہے ۔میرے خیال میں پاکستان کا جغرافیائی ،تزویراتی محل وقوع بڑی اہمیت کا حامل ہے اور سعودی عرب بعض شعبوں میں اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے‘‘۔

انھوں نے سعودی ولی عہد سے مخاطب ہو کر کہا:’’ ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھیں ۔وزیراعظم ہاؤس جہاں آپ ٹھہرے ہوئے تھے ،آپ جب بھی پاکستان آئیں تو آپ اس کو اپنا گھر سمجھیں اور وہیں رہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں