وزیراعظم عمران خان کی ایران کے دو روزہ سرکاری دورے پر مشہد کے بعد تہران آمد

ایرانی قیادت سے پاک ایران سرحد پر سکیورٹی سے متعلق امور اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر بات چیت کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان دو روزہ سرکاری دورے پر ایران پہنچ گئے ہیں۔انھیں اس دورے کی دعوت ایرانی صدر حسن روحانی نے دی ہے اور وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کا پڑوسی ملک ایران کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔

عمران خان اتوار کو اسلام آباد سے مشہد شہر پہنچے تھے جہاں انھوں نے مختصر قیام کیا اور امام رضا رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی۔وزیراعظم اپنے وفد کے ہمراہ مشہد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترے تو صوبہ خراسان ِ رضوی کے گورنر جنرل علی رضا رزم حسینی نے ان کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر ایران میں پاکستانی سفیر رفعت مسعود ، تہران میں پاکستانی سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے کے حکام بھی موجود تھے۔

وزیراعظم کے دفتر کی پریس ریلیز کے مطابق انسانی حقوق کی وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری ،جہاز رانی کے امور کے وزیر سیّد علی حیدر زیدی ، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد ، سمندرپار پاکستانیوں اور انسانی وسائل کی ترقی کے لیے وزیراعظم کے معاون خصوصی سیّد ذوالفقار بخاری ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت خدمات ڈاکٹر ظفراللہ مرزا اور پیٹرولیم کے خصوصی معاون ندیم بابر بھی عمران خان کے ہمراہ ایران کے سرکاری دورے پر گئے ہیں۔

مشہد میں مختصر قیام کے بعد وزیراعظم تہران پہنچ گئے ہیں جہاں مہرآباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایران کے وزیر صحت ( وزیر مہمان داری) ڈاکٹر سعید نمکی نے ان کا خیرمقدم کیا۔واضح رہے کہ عمران خان نے پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق ایران کا یہ دورہ جنوری میں کرنا تھا لیکن آخری وقت پر نامعلوم وجوہ کی بنا پر یہ دورہ منسوخ کردیا گیا تھا ۔

پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران میں سرحدی علاقے میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد سرد مہری آئی ہے جبکہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں حال ہی میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیے گئے بعض مشتبہ افراد نے یہ اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے ایران میں عسکری تربیت حاصل کی تھی۔پاکستان میں گرفتار کیا گیا بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کئی سال تک ایران کے ساحلی شہر چاہ بہار میں مقیم رہا تھا۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز ایران سے اورماڑا میں دہشت گردی کے حالیہ واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر شدید احتجاج کیا تھا۔پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گذشتہ ہفتے کوسٹل ہائی وے پر نامعلوم مسلح افراد نے بسوں سے اتار کر سکیورٹی فورسز کے چودہ غیر مسلح اہلکار وں کو قتل کردیا تھا۔

وزارتِ خارجہ نے جمعہ کو اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے کو ایک خط لکھا تھا اور اس میں کہا تھا’’ ایران میں ٹھکانے رکھنے والے دہشت گرد گروپوں کے ہاتھوں چودہ بے گناہ پاکستانیوں کی ہلاکت ایک بہت ہی سنگین واقعہ ہے۔پاکستان اس پر شدید احتجاج کرتا ہے‘‘۔

اس سے ایک روز پہلے ہی ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے دہشت گردی کے اس واقعے کی مذمت کی تھی۔انھوں نے ٹویٹر پر لکھا تھا :’’ وزیراعظم عمران خان کی ایران کے تاریخی دورے پر آمد سے قبل پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں‘‘۔

سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی ایرانی قیادت سے بات چیت کے ایجنڈے میں سرحدی علاقے میں سکیورٹی سے متعلق امور سرفہرست ہوں گے۔ وہ دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے اور اس موقع پر دونوں ملکوں میں مفاہمت کی مختلف یادداشتوں پر دست خط بھی ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں