.

معروف امریکی گلوکارہ کی تنہا رہ جانے والے ہاتھی سے ملنے پاکستان آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نامور گلوکارہ اور اداکارہ شیر پاکستان میں دنیا کے 'تنہا' قرار دیے جانے والے ہاتھی کو پاکستانی چڑیا گھر سے کمبوڈیا منتقل کرنے کی تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ رہی ہیں۔ پاکستان کے ایک چڑیا گھر میں موجود 'کاوان' نامی ہاتھی سنہ 2012ء میں اس کی ساتھی کی ہتھنی کی وفات کے بعد تنہائی کا شکار ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسے دنیا کا تنہا ترین ہاتھی قرار دیا گیا ہے۔ اس کی تنہائی ختم کرنے کے لیے حیوانات کے حقوق کے لیے کام کرنے والے تنظیموں نے اسے کمبوڈیا منتقل کرنے کے لیے پاکستانی حکام سے بات چیت کی تھی جس کے بعد اب کاون کو کمبوڈیا لے جایا جائے گا۔

سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر گلوکارہ شیر کے پاکستان کے دورے کا شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم ویانا میں واقع جانوروں کی فلاح و بہبود کے گروپ 'فور بوز انٹرنیشنل' نے کاون کو کمبوڈیا لے جانے کی مہم میں پیش پیش رہا ہے، کے سربراہ مارٹن پاور نے شیر کے پاکستان دورے کا میڈیا میں اعلان نہیں کیا گیا مگر وہ پاکستان روانہ ہوچکی ہیں۔

مذکورہ ہاتھی 35 سال سے چڑیا گھر میں ہے اور اس نے 2012 میں اپنا ساتھی کھو دیا۔ ویٹرنریرین کے ماہرین نے رواں سال کے آغاز میں کہا تھا کہ ہاتھی کا وزن کم ہو رہا ہے اور وہ غذائی قلت کا بھی شکار ہے۔ اس کے رویے میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ آخر کار طے پایا ہے کہ اسے کل اتوار کے روز کمبوڈیا کے ایک محفوظ علاقے بھیج دیا جائے گا۔

پاکستان میں ہاتھی کی تنہائی ختم کرنے کے لیے عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ 'شیر' نے بھی آواز اٹھائی تھی۔

فور بوز انٹرنیشنل نے کاوان کے سفر سے پہلے ضروری طبی علاج فراہم کیا ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ ہاتھی کو منتقل کرنے کی کوشش سنہ 2016 میں شروع ہوئی تھی۔

پاور نے جمعہ کو ایسوسی ایٹ پریس کو بتایا گلوکارہ چیئر اور مقامی پاکستانی کارکنوں کی بدولت کاوان کی منتقلی عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے جس سے اس کی کمبوڈیا منتقلی مزید آسان ہوگئی ہے۔