.

این اے 75:مسلم لیگ ن کی امیدوارنوشین افتخارفاتح،علی اسجدملہی پھرشکست سے دوچار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان مسلم لیگ ن کی امیدوارنوشین افتخار ضلع سیال کوٹ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں جیت گئی ہیں۔انھوں نے اپنے حریف حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوارعلی اسجد ملہی کو بھاری ووٹوں کے فرق سے شکست دی ہے۔

الیکشن کمیشن پاکستان نے ڈسکہ شہرکے نام سے دنیا بھر میں معروف ہونے والے اس حلقہ میں 360 پولنگ مراکز قائم کیے تھے۔ضلعی انتخابی افسر کی جانب سے جاری کردہ غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کی امیدوارنے 110,075 ووٹ حاصل کیے ہیں۔ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے امیدوار کے حق میں 93,433 ووٹ ڈالے گئے ہیں۔اس طرح نوشین افتخار16642ووٹوں سے جیت گئی ہیں۔

قومی اسمبلی کی یہ نشست سیّدہ نوشین افتخار کے والد سید افتخارالحسن شاہ المعروف ظاہرے شاہ کی گذشتہ سال وفات سے خالی ہوئی تھی۔اس حلقے میں پہلے 19 فروری کو ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ ہوئی تھی مگر 20 پولنگ مراکز کے پریزائیڈنگ افسروں کے اغوا اور تشدد کے واقعات کے بعد الیکشن کمیشن پاکستان نے نتائج روک لیے تھے۔پھرپورے حلقے ہی میں انتخابی عمل کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ دوبارہ کرانے کا حکم دیاتھا۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا اور 10 اپریل کو دوبارہ ضمنی انتخاب کرانے کا حکم دیا تھا۔عدالت عظمیٰ نے حکمراں جماعت کے امیدوار علی اسجد ملہی کی نظرثانی کی اپیل مسترد کردی تھی۔

الیکشن کمیشن نے اس مرتبہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے بھرپور انتظامات کیے تھے اور انتخابی عملہ کے تحفظ کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔پولنگ کا عمل ہفتے کی صبح آٹھ بجے شروع ہوا اور شام پانچ بجے تک جاری رہا تھا۔اس دوران میں کہیں سے کسی سنگین ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔البتہ بعض پولنگ مراکز کے باہر اسلحہ لہرانے کی اطلاعات ملی تھیں اور پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسلحہ بردار سیاسی کارکنان کو گرفتار کر لیا تھا۔

کرونا وائرس کی وَبا کے پیش نظر ضمنی انتخاب میں اس مرتبہ ووٹر ٹرن آوٹ کم رہا ہے اور ووٹر ماضی کی طرح زیادہ تعداد میں اپنے گھروں سے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے نہیں نکلے ہیں۔الیکشن کمیشن کے جاری کردہ فارم 47 کے مطابق پورے حلقے میں ووٹ ڈالنے کی شرح 43۰33 فی صد رہی ہے۔

پی ٹی آئی کے امیدوارعلی اسجد ملہی کو ڈسکہ کے اس حلقہ سے چوتھی مرتبہ شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔انھوں نے 2008ء اور 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات میں اس حلقہ سے پاکستان مسلم لیگ ق کے امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا تھا لیکن دونوں مرتبہ وہ ہارگئے تھے۔ پھر وہ پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے تھے۔2018 کے عام انتخابات اور2021ء کے ضمنی انتخاب میں وہ حکمراں جماعت کے امیدوار تھے مگر اس کے باوجود شکست ان کا مقدر بنی ہے۔

وہ صرف 2002ء میں منعقدہ عام انتخابات میں اس حلقہ سے پاکستان مسلم لیگ ق کے کے ٹکٹ پرکامیاب ہوئے تھے،مگر2008ء کے عام انتخابات میں وہ مسلم لیگ نواز کے امیدوار سیّد مرتضیٰ امین سے ہار گئے تھے۔صاحبزادہ مرتضیٰ امین سیّدہ نوشین افتخار کے شوہر ہیں۔تب قومی اسمبلی کے اس حلقہ کا نمبر این اے 113 سیال کوٹ 4 تھا۔الیکشن کمیشن نے بعد میں جب نئی حلقہ بندی کی تو یہ این اے 75 ہوگیا تھا۔اس میں ڈسکہ شہر اور تحصیل شامل ہیں۔

علی اسجد ملہی کو پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر دوسری مرتبہ شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔اس سے پہلے وہ 2018ء میں مرحوم افتخارالحسن ظاہرے شاہ سے ہارے تھے۔اب ان کی بیٹی نوشین افتخار نے انھیں ضمنی انتخاب میں شکست دی ہے۔