پاکستان میں کروناوائرس کی اومیکرون شکل کےاب تک 75 کیسوں کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) نے منگل کو بتایاکہ ملک میں اب تک کووِڈ-19 کی اومیکرون شکل کے مجموعی طورپر75 کیسوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔

این آئی ایچ نے ایک بیان میں کہا کہ نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشن اینڈ کوآرڈی نیشن (این ایچ ایس آر سی)، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) اور صوبائی محکمے پاکستان میں اومیکرون کے کیسوں پرتب سے نظر رکھے ہوئے ہیں جب سے اسے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے تشویش کی ایک قسم قراردیا ہے۔

بیان میں بتایاگیا ہے کہ کووِڈ-19 کی اومیکرون شکل کا پہلا کیس 13 دسمبر کو کراچی میں رپورٹ ہوا تھا اور 27 دسمبرتک اومیکرون کے کل 75 کیسوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔

بیان کے مطابق ملک کے سب سے بڑے شہرکراچی میں 33، اسلام آباد میں17 اورلاہورمیں 13 کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے۔باقی 12کیس بین الاقوامی سفرسے وابستہ ہیں۔این آئی ایچ نے مزید تفصیل فراہم نہیں کی ہے۔

این آئی ایچ نے کہا کہ متعلقہ حکام نے مریضوں کو الگ تھلگ کردیا ہے اور اس قسم کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے کنٹریکٹ ٹریسنگ شروع کردی ہے۔بیان میں مزید کہاگیا ہے کہ نئی اقسام کے باوجود ویکسی نیشن اور معیاری آپریٹنگ طریق کار(ایس او پیز) ہی کووِڈ-19 کے خلاف ہمارا بہترین دفاع ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں حکومت کی منظورشدہ کووِڈ-19 کی تمام ویکسینیں شدید بیماری اور اسپتال میں داخلے کی روک تھام کے حوالے سے انتہائی موثرہیں۔حکومت نے ہرشہری پرزوردیا ہے کہ وہ اہلیت کے معیار اورعمل کے مطابق کووِڈ-19 کی ویکسین کی دونوں خوراکوں کے علاوہ تیسری تقویتی خوراک بھی لگوائے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے آٹھ دسمبر کو اومیکرون شکل کے پہلے مشتبہ کیس کی اطلاع دی تھی۔اس کی جین سیکوئنسنگ کے بعد آغاخان یونیورسٹی اسپتال نے 13 دسمبرکو اسے نیا ویرینٹ قراردیا تھا۔

18دسمبر کو محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا تھا کہ کراچی میں ایک 35سالہ شخص میں اس قسم کا ایک اور کیس سامنے آیاتھا۔وہ 8 دسمبر کوبرطانیہ سے آیا تھا۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حکام نے گذشتہ ہفتے کے روز کروناوائرس کی اومیکرون شکل کے پہلے کیس کی تصدیق کی تھی۔

اسلام آباد کے ضلعی افسرصحت (ڈی ایچ او) زعیم ضیاء نےبتایا کہ ایک 47 سالہ مرد میں اومیکرون وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔یہ شخص اسلام آباد میں کام کرتا ہےاور کام کی غرض سے ہی شہر سے باہر گیا تھا۔انھوں نے بتایا کہ مریض کی بیرون ملک سفر کی کوئی تاریخ نہیں تھی اور اس شخص میں اومیکرون قسم کی جینوم سیکوئنسنگ کے بعد تصدیق کی گئی تھی۔

گذشتہ ماہ وفاقی وزیرمنصوبہ بندی اسد عمر اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹرفیصل سلطان نے خبردار کیا تھا کہ اومیکرون شکل کی آمد ناگزیر ہے اوریہ اب وقت کی بات ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے27 نومبرکو براعظم افریقا کے چھے ممالک جنوبی افریقا، لیسوتھو، ایسوٹینی، موزمبیق، بوٹسوانا اور نمیبیا کے علاوہ ہانگ کانگ کے سفر پر مکمل پابندی عاید کر دی تھی۔بعد ازاں اس سفری پابندی کو مزید نو ممالک کروشیا، ہنگری، نیدرلینڈز، یوکرین، آئرلینڈ، سلووینیا، ویت نام، پولینڈ اور زمبابوے تک بڑھا دیا گیا تھا۔

مزید برآں قومی کمان اورآپریٹنگ سنٹر نے امریکا، برطانیہ، جرمنی، ٹرینی ڈاڈ اینڈ ٹوباگو، آذربائیجان، میکسیکو، سری لنکا، روس، تھائی لینڈ، فرانس، آسٹریا، افغانستان اور ترکی پرکیٹیگری بی میں شامل کرلیا تھا۔

ان 13 ممالک کے تمام مسافروں کو مکمل ویکسین لگوانے کی ضرورت ہے جبکہ چھے سال سے زیادہ عمرکے ہر شخص کے پاس پی سی آر ٹیسٹ کی منفی رپورٹ ہونی چاہیے جو بورڈنگ سے 48 گھنٹے سے پہلے جاری نہ کی گئی ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں