عمران خان:کینیڈین وزیراعظم کے انسداداسلاموفوبیاکے لیے خصوصی نمائندہ کے تقررکا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وزیراعظم عمران خان نےکینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈوکے اسلاموفوبیا کے انسداد کے لیے خصوصی نمائندے کے تقررکا خیرمقدم کیا ہے۔

اتوار کو ایک ٹویٹ میں وزیراعظم نےکہا کہ ’’جسٹن ٹروڈو کی جانب سے اسلاموفوبیا کی صریح مذمت اوردورحاضر کی اس لعنت کے انسداد کے لیے ایک نمائندہ خصوصی مقررکرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں‘‘۔

عمران خان نے کہا کہ جسٹن ٹروڈو کی اس بروقت تحریک میں اس دعوت کی بازگشت ہے جو میں ایک عرصے سے دنیا کودے رہا ہوں کہ آئیے باہم مل کراس آفت کے خاتمے کا سامان کریں۔

وزیراعظم کا یہ تبصرہ ٹروڈو کی جانب سے ٹویٹر پراپنے پیغام میں اسلاموفوبیا کوپکارنے اور اس سے نمٹنے کے لیے خصوصی نمائندہ کے تقررکے اعلان کے ایک روزبعد سامنے آیا ہے۔

ٹروڈو نے ایک ٹویٹ میں لکھا:’’اسلاموفوبیا ناقابل قبول ہے۔ ہمیں اس نفرت کو ختم کرنے اور اپنی کمیونٹیوں کو کینیڈین مسلمانوں کے لیے محفوظ بنانے کی ضرورت ہے‘‘۔

وزیر اعظم عمران خان نے اسلامو فوبیا کے’’عصری ناسور‘‘سے نمٹنے کے ٹروڈوکے منصوبے کا خیرمقدم کیا اور کہاکہ آئیے ہم اس لعنت کو ختم کرنے کے لیے مل جل کر کام کریں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے الگ سے ایک بیان میں کہا کہ وزیراعظم عمران نے دنیا کی توجہ ’’اسلاموفوبیا کے نقصانات‘‘کی طرف مسلسل مبذول کرائی ہے۔پاکستان اسلاموفوبیا کے خلاف وزیراعظم ٹروڈو کے سخت مؤقف اور کینیڈا کی جانب سے اس کے خلاف کی جانے والی ٹھوس کارروائی کوسراہتا ہے اور اس کا خیرمقدم کرتا ہے۔

کینیڈین حکومت کے مطابق خصوصی نمائندے کے کردار اور مینڈیٹ سے متعلق تفصیل کی تصدیق بعد میں کی جائے گی۔اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک سرکاری بیان میں کینیڈین حکومت نے کہا کہ اسلاموفوبیا اورنفرت کی کسی بھی شکل کی ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

اس نے کہا کہ ’’اسلاموفوبیا کینیڈا اوردنیا بھر کی مسلم کمیونٹیوں کے لیے ایک ٹھوس اورروزمرہ کی حقیقت ہے۔ جب ہم اس سے متاثرین کا احترام کرتے ہیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ امتیازی سلوک کا مقابلہ کرنا اور زیادہ جامع کینیڈا کی تعمیرجاری رکھنا ہماری ذمے داری ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے2019ء میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں اسلاموفوبیا کی مذمت کی تھی اوراس پرتشویش کا اظہار کیا تھا کہ اس میں تشویش ناک رفتارسے اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’’اسلاموفوبیا تقسیم پیدا کررہا ہے، حجاب ایک ہتھیار بن رہا ہے؛ ایک عورت کپڑے اتارسکتی ہے لیکن وہ زیادہ کپڑے نہیں پہن سکتی‘‘۔گذشتہ سال وزیراعظم نے عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کینیڈا کے شہراونٹاریو میں پاکستانی نژاد خاندان پر مہلک ٹرک حملے کے بعد آن لائن نفرت انگیز مواد اور اسلاموفوبیا کے خلاف کارروائی کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں