آرٹیکل 63-اے؛منحرف قانون سازوں کے ووٹ شمارنہیں ہوں گے:عدالتِ عظمیٰ کافیصلہ

صدارتی ریفرینس پررائے دینا ’’آئین کو دوبارہ لکھنے‘‘کے مترادف ہے:دوججوں کا اختلافی نوٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے منگل کے روز آئین کے آرٹیکل 63-اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرینس پراپنا فیصلہ سنا دیا ہے اورکہا ہے کہ منحرف قانون سازوں کے ووٹ پارلیمان میں چاراہم مواقع پررائے شماری کے وقت شمار نہیں کیے جائیں گے۔

عدالت عظمیٰ کی پانچ رکنی بینچ نے آئین کی دفعہ 63-اے سے متعلق صدارتی ریفرینس کی سماعت کی ہے اور 3-2 کی اکثریت سے فیصلہ سنایا ہے۔ججوں کی اکثریت نے آرٹیکل 63-اے کے تحت بیان کردہ چارمواقع پر قانون سازوں کو اپنی جماعت کے خلاف ووٹ دینے کی اجازت نہیں دی۔

یہ چار مواقع وزیراعظم اوروزیراعلیٰ کا انتخاب ،اعتماد یا عدم اعتماد کے وقت ووٹ؛ ایک آئینی ترمیمی بل اور مالیاتی(مَنی) بل پر رائے شماری ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان عمرعطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر نے اکثریتی فیصلہ سنایا ہے جبکہ جسٹس مظہرعالم خان میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے ان کے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ صدارتی ریفرینس پر رائے دینا’’آئین کو دوبارہ لکھنے‘‘کے مترادف ہے۔

پاکستان کے صدرعارف علوی نے اس ریفرینس میں عدالتِ عظمیٰ سے چاراہم سوالات پوچھے تھے:

کیا آرٹیکل 63-اے کی محدود یا وسیع، مقصد پر مبنی تشریح ہونی چاہیے؟

کیا منحرف ہونے والے اراکین کے ووٹ کو دوسروں کے برابراہمیت دی جائے گی؟

کیا منحرف افراد کو تاحیات نااہل قرار دیا جاسکتا ہے؟

پارٹی بدلنے، فلورکراسنگ اور ووٹ خریدنے سے روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں؟

عدالت عظمیٰ نے اپنے مختصرحکم میں کہا ہے کہ پہلا سوال آرٹیکل 63-اے کی تشریح اوراطلاق کے لیے مناسب نقطہ نظر سے متعلق تھا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہماری نظرمیں اس شق کوتنہا اوراس انداز میں نہیں پڑھا اور لاگو کیا جا سکتا جیسے یہ آئین میں جو کچھ بھی فراہم کیا گیا ہے،اس سے الگ تھلگ یا لاتعلق ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 63-اے خود آئین میں بنیادی حقوق کے بعض پہلوؤں کا مظہرہے جوآرٹیکل 17 کی شق (2) کے تحت سیاسی جماعتوں میں موجود ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ دونوں دفعات ’’ایک دوسرے سے جڑی ہوئی‘‘ہیں۔

آئین کا آرٹیکل 17 انجمن کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ہرشہری کو انجمنیں یا یونین بنانے کا حق حاصل ہوگا اور یہ حق صرف پاکستان کی خودمختاری یا سالمیت، امن عامہ یا اخلاقیات کے مفاد میں قانون کے ذریعہ عاید کردہ کسی بھی معقول پابندیوں کے تابع ہوگا۔

فیصلے میں مزیدکہا گیا ہے کہ پارٹی بدلنے کا طریقہ ’’سب سے زیادہ نقصان دہ طریقوں میں سے ایک‘‘ہے جس میں سیاسی جماعتوں کوعدم استحکام کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور یہ پارلیمانی جمہوریت کے قانونی جواز کو بھی نقصان پہنچاسکتا ہے۔

پارٹی بدلنے والوں کی بجا طورپر مذمت کی جاتی ہے کہ یہ عمل ایک کینسر ہے جو سیاسی جسم کو متاثر کر رہا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ 63-اے کی تشریح ’’سفارش اور مضبوط انداز‘‘میں کی جانا چاہیے۔

آرٹیکل 63-اے کا مقصد آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعتوں کے بنیادی حق کو نافذ کرنا ہے۔اس لیے بنیادی حقوق کے مطابق اس کی تشریح اوراس کا وسیع پیمانے پر اطلاق ہونا چاہیے۔اگراجتماعیت کے بنیادی حقوق اور ایک انفرادی رکن کے درمیان تنازع ہے تو اوّل الذکر(جماعت) کوغالب ہونا چاہیے۔

عدالتِ عظمیٰ نے دوسرے سوال پراپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کسی ایوان میں پارلیمانی پارٹی کے کسی بھی رکن کا ووٹ ،جوآرٹیکل 63-اے کی شق (1) کے پیرا (ب) کے لحاظ سے مؤخرالذکرکی طرف سے جاری کردہ کسی بھی ہدایت کے برعکس کاسٹ کیا جاتا ہے،تواس کی گنتی نہیں کی جاسکتی اور اسے نظرانداز کیا جانا چاہیے۔یہ اس بات سے قطع نظرہے کہ پارٹی سربراہ، اس طرح کے ووٹ کے بعد، ایسی کارروائی کرنے کے لیے آگے بڑھتا ہے جس کے نتیجے میں پارٹی بدلنے کا اعلان ہوتا ہے۔

عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ اگر پارلیمنٹ مناسب قانون منظورکرے تو آرٹیکل 63 کے تحت پارٹی بدلنے کے اعلان کے نتیجے میں نااہلی ہوسکتی ہے۔اگرچہ یہ پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ اس طرح کی قانون سازی کرے لیکن یہ کہنا ضروری ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس طرح کا قانون وضع کیا جائے اور کتابِ قانون میں شامل کیا جائے۔

تیسرے سوال کے جواب میں حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اگراس طرح کی قانون سازی کی جاتی ہے تو یہ محض کلائی پرتھپڑ مارنے کے مترادف نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس برائی کا مضبوط اور متناسب جواب ہونا چاہیے جسے ناکام بنانے اور ختم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

فیصلے میں چوتھے سوال پررائے دینے سے گریزکیا گیا ہے اوراسے ’’مبہم، بہت وسیع اور عمومی‘‘سمجھا گیا ہے۔ اس کے بعدعدالت نے اس سوال کا جواب نہیں دیا۔

اختلافی نوٹ

جسٹس میاں خیل اورجسٹس مندوخیل نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہاکہ آرٹیکل 63-اے اپنے آپ میں ایک ’’مکمل ضابطہ‘‘ تھا اوروہ پارٹی بدلنے کے ساتھ ساتھ ایسا کرنے کے نتائج کے بارے میں ایک جامع طریق کار فراہم کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن آف پاکستان کسی رکن کے خلاف پارٹی سربراہ کی جانب سے بھیجے گئے اعلامیے کی تصدیق کرتا ہے تو وہ ایوان کا رکن نہیں رہے گا۔ اس کے نتیجے میں پارلیمان میں اس کی نشست خالی ہوجائے گی۔ دونوں جج صاحبان نے کہا کہ آرٹیکل 63-اے کے تحت اپیل کا حق بھی فراہم کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63-اے کی مزید تشریح ’’آئین کو دوبارہ لکھنے یا پڑھنے‘‘ کے مترادف ہوگی جس سے اس کی وہ دفعات بھی متاثر ہوں گی جن کی بابت صدر نے نہیں پوچھا تھا۔ان کی تشریح ہمارا مینڈیٹ نہیں ہے۔ ہمیں اس صدارتی ریفرینس کے ذریعے پوچھے گئے سوالات میں کوئی طاقت نظرنہیں آتی۔اس لیے اس کاجواب منفی اندازمیں دیا جاتا ہے۔ تاہم،انھوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگر پارلیمنٹ مناسب سمجھتی ہے، تووہ منحرف ارکان پرمزید پابندی یا پابندیاں عاید کرسکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں