ڈالر اوپن مارکیٹ کے بعد انٹربینک میں بھی 200 روپے کا ہوگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایف اے پی) کے اعداد وشمار کے مطابق امریکی ڈالر انٹربینک میں کاروبار کے دوران 200 روپے کے چونکا دینے والے سنگ میل پر پہنچ گیا، جو گزشتہ روز 199روپے پر بند ہونے کے بعد آج ایک روپے بڑھ گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’’ایف اے پی‘‘ کے مطابق صبح 11 بجے کے قریب امریکی کرنسی 200 روپے تک پہنچ گئی تھی جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔

ایک روز قبل ڈالر کی قدر میں 2 روپے کا اضافہ ہوا اور سیشن کے اختتام پر 199 روپے پر بند ہوا تھا۔

فاریکس ایکسچینج پاکستان نے گزشتہ روز بند ہونے کی شرح 199 روپے پر ریکارڈ کی جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق اختتامی شرح 198.39 روپے رہی جو 200 روپے کے سنگ میل کے قریب ہے۔

گزشتہ روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت پہلے ہی 200 روپے تک پہنچ چکی تھی۔

دریں اثنا چیس مین ہٹن کے سابق ٹریژری ہیڈ اسد رضوی نے میٹیس گلوبل کو بتایا کہ 'پنشن کی لاگت، گردشی قرض (25 کھرب روپے)، 12 کھرب روپے کے عوامی ادارے اور تقریباً 8 فیصد کا مالیاتی خسارہ پائیدار نہیں اور روپے پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دوران'آزاد اسٹیٹ بینک' پاکستانی روپے کے بارے میں فکرمند نہیں اور شاید آئی ایم ایف مذاکرات کے نتائج کا انتظار کررہا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں، تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پہلے ہی ملک کے تیل کے درآمدی بلوں کو دگنا کر دیا ہے اور مجموعی درآمدات بھی ریکارڈ بلندی پر ہیں۔

اپریل میں درآمدات میں 72 فیصد اضافہ ہوا جس سے حکومت کے لیے بیرونی توازن کو بہتر کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔

مزید برآں مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 10.3 ارب ڈالر کو چھو چکے ہیں، جو جون 2020 کے بعد سب سے کم ہیں۔

کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ غیر متوقع طور پر زیادہ درآمدی بل اور کم غیر ملکی سرمایہ کاری شرح مبادلہ کی حمایت میں نہیں جبکہ 13 ارب ڈالر سے زائد کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پہلے ہی حکومت کے لیے ایک چیلنج کے طور پر موجود تھا۔

یاد رہے کہ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستانی حکام نے گزشتہ روز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کیے تھے، جس میں وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے دو باتوں پر غیر یقینی صورتحال کو دور کرنے کی کوشش کی تھی وہ یہ کہ نئی مخلوط حکومت اپنے عہدے پر برقرار رہے گی اور اصل فنڈ پروگرام اور مکمل ساختی معیارات میں سخت فیصلے کرے گی اور اصلاحات کا آغاز کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں