پاکستان کواپنےغیرملکی زرمبادلہ کے ذخائرمیں کمی کو دور کرنے کے لیے رواں ماہ اپنے دوست ممالک سے 4 ارب ڈالرملنے کا امکان ہے۔
وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے ہفتے کے روز ایک نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے حال ہی میں مذاکرات کے دوران میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائرمیں کمی کی نشان دہی ہے اور اس فرق کوپاٹنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔
آئی ایم ایف کاپاکستان کے ساتھ عملہ کی سطح کا معاہدہ دو روز قبل ہی طے پایاہے۔اس سے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو1.17 ارب ڈالرکی تقسیم کی راہ ہموارہوگئی ہے۔آئی ایم ایف کا بورڈ 2019 میں طے شدہ 6 ارب ڈالر کے پروگرام میں ایک ارب ڈالر شامل کرنے پر بھی غور کررہا ہے۔اس کے علاوہ اس سے پاکستان کواپنے دوست ممالک سے بھی مالی امداد کے حصول میں مدد ملے گی۔
وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے اسلام آباد میں غیرملکی ذخائرمیں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت آئی ایم ایف کے مطابق 4 ارب ڈالر کا فرق ہے۔اللہ نے چاہا تو ہم جولائی ہی میں اس خلا کوپُر کرلیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں ایک دوست ملک سے تیل کی مؤخرادائیگی کی مد میں 1.2 ارب ڈالر ملیں گے۔ ایک اور دوست ملک جی ٹو جی (یعنی حکومت سے حکومت) کی بنیاد پراسٹاک ایکس چینج کے ذریعے ڈیڑھ سے 2 ارب ڈالر کے درمیان سرمایہ کاری کرے گا اور ایک اور دوست ملک شاید ہمیں مؤخرادائیگی پرگیس مہیا کرے گا اورایک اور دوست ملک نقد رقم بنک دولت پاکستان میں جمع کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائرمیں کمی سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھتاجارہا ہے اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدرمیں کمی سے ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اگرآئی ایم ایف سے معاہدہ طے نہیں ہوتا تو ملک دیوالیہ ہونے کی طرف بڑھ سکتا تھا۔
وزیرخزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2022-2023 میں ملک کو عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی قریباً6 ارب ڈالرملیں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے 2019 میں آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالرمالیت کا پروگرام طے کیا تھا لیکن اس رقم کا نصف سے بھی کم حصہ آج تک پاکستان کو مہیّا کیا گیاہے۔بینک دولت پاکستان نے افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے اپنی شرح سود بڑھا کر 15 فی صد کر دی ہے۔جون میں افراطِ زر کی شرح 21.3 فی صد تک پہنچ گئی تھی۔