.

پاکستانی کرنسی کی قدرمیں ڈالرکے مقابلے میں ایک دن میں سب سے زیادہ 9.59 روپے کااضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی کرنسی کی قدرمیں بدھ کے روز انٹربینک مارکیٹ میں زبردست اضافہ ہوا ہےاورڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر 9.59 روپے بڑھی ہے۔پاکستانی روپے میں اب تک ایک دن میں یہ سب سے زیادہ اضافہ ہے۔

بینک دولت پاکستان (اسٹیٹ بینک) نے کہا ہے کہ روپیہ 4.19 فی صد اضافے کے ساتھ 228.80 روپے پر بندہواہے جبکہ گذشتہ روزاس کا ڈالر کے ساتھ لین دین 238.38 روپے پربند ہوا تھا۔

عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق روپے کی قدرمیں یہ مطلق طور پرایک دن میں سب سے زیادہ بڑھوتری ہے۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان(ایف اے پی) کے چیئرپرسن ملک بوستان نے کہا کہ جولائی کے کم درآمدی بل سے ملک کے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مددملی ہے جس کے نتیجے میں روپے پردباؤ کم ہوا ہے۔

میٹس گلوبل کے مطابق آج کی قابلِ ذکربحالی’’بنیادی طور پر بہتر معاشی بنیادوں کی وجہ سے ہوئی ہے کیونکہ جولائی 2022 میں درآمدی بل کم ہوکر 4.86 ارب ڈالر رہ گیا ہے اوراس میں 38.31 فی صد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ گذشتہ ماہ جون میں یہ 7.88 ارب ڈالر تھا‘‘۔

اس کے مطابق جولائی میں تجارتی خسارہ کم ہوکر2.64 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ جون میں تجارتی خسارے کا حجم 4.96 ارب ڈالرتھا۔

ملک بوستان کی رائے میں آج کی بحالی کاایک حصہ ان توقعات پر بھی مبنی ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) جلدہی اپنی قسط جاری کرے گا۔بوستان نے کہا کہ افغانستان میں ڈالروں کی اسمگلنگ کی وجہ سے اوپن مارکیٹ اورانٹربینک مارکیٹ کے نرخ میں 10روپے کافرق تھا اور سرحد پر سخت سکیورٹی کی وجہ سے برابر ہوگیا ہے۔افغانستان میں ڈالروں کی منتقلی رک گئی ہے جس کے اثرات سے روپےکو تقویت ملی ہے۔

مالیاتی منڈیوں کے لیے ویب پر مبنی ٹرمینل ٹریسمارک میں تحقیق کی سربراہ کومل منصور نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم کے اعتماد بڑھانے والے تبصروں سے جذبات میں بہتری آئی ہے، اس کے علاوہ تیل کی قیمتوں میں کمی اور زیادہ انوینٹری سے کرنٹ اکاؤنٹ پر موافق اثر پڑے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی اورمقامی کسادبازاری کے ساتھ ساتھ تیل، خوراک اور اشیاء کی قیمتوں پراثرانداز ہونے یا کم ہونے سے درآمدی بل بہت کم ہو جائے گا جس سے ڈالر کے اخراج کی طلب میں کمی آئے گی۔اس سے کم سے کم کچھ عرصے کے لیے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کو بہتر بنانے میں مدد ملنی چاہیے۔

درآمدی بل میں کمی

منگل کو پاکستان کے ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمارسے ظاہر ہوتا ہے کہ درآمدی بل جولائی میں 12.81 فی صد کم ہوکر4.86 ارب ڈالر رہ گیا جبکہ گذشتہ سال اسی ماہ میں درآمدی بل کا حجم 5.57 ارب ڈالر تھا۔ ماہ بہ ماہ کی بنیاد پر درآمدی بل میں 38.31 فی صد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

صرف جون میں درآمدی بل گذشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 7.74 ارب ڈالر تک بڑھ گیا اور 23.26 فی صدکے اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔جون 2021ء میں درآمدی بل کی مالیت 6۰28 ارب ڈالر تھی۔

مالی سال 2021-22 کے دوران میں درآمدی بل 43.45 فی صد اضافے کے ساتھ 80.51 ارب ڈالر ہو گیا تھا۔ایک سال قبل یہ بل56.12 ارب ڈالر تھا۔

پاکستان کا تجارتی خسارہ جولائی میں 18.33 فی صد کم ہو کر 2.64 ارب ڈالر رہ گیا۔اس کے مقابلے میں گذشتہ سال اسی ماہ میں 3.23 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا تھا۔ تجارتی خسارے میں ماہ بہ ماہ کمی 46.76 فی صد ریکارڈ کی گئی ہے۔

مالی سال 22 میں تجارتی خسارہ 48.66 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔یہ ایک سال قبل 30.96 ارب ڈالر تھا اوریہ توقع سے زیادہ درآمدات میں 57 فی صد اضافے کا عکاس ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں