پیٹرول مہنگا کرنے کے فیصلے کی تائید نہیں کر سکتی: مریم نواز
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کا کہنا ہے کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑی ہیں
وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم کہا ہے کہ 'میں عوام کے ساتھ کھڑی ہوں، اس فیصلے کی تائید نہیں کر سکتی۔'
مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹر ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں مریم نواز نے کہا کہ 'میاں نواز شریف نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے اور یہاں تک کہہ دیا کہ میں مزید ایک پیسے کا بوجھ عوام پر نہیں ڈال سکتا اور اگر حکومت کی کوئی مجبوری ہے تو میں اس فیصلے میں شامل نہیں ہوں اور اجلاس چھوڑ کر چلے گئے'۔
ان کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت بالخصوص وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کو آڑے ہاتھوں لیا۔
میاں صاحب نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی اور یہاں تک کہ دیا کہ میں مزید ایک پیسے کا بوجھ عوام پر نہیں ڈال سکتا اور اگر حکومت کی کوئی مجبوری ہے تو میں اس فیصلے میں شامل نہیں ہوں اور میٹنگ چھوڑ کر چلے گئے۔ https://t.co/McG019GW6Z
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) August 15, 2022
جس کے جواب میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ 'میں ایک آسان ہدف ہوں لیکن قیمت میں یہ تبدیلی صرف پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے اخراجات میں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے اور اس میں کوئی نیا ٹیکس شامل نہیں ہے۔'
خیال رہے کہ رات گئے حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے 72 پیسےاضافہ کر دیا تھا جس کے بعد نئی قیمت 233 روپے 91 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 51 پیسے سستا ہونے کے بعد 244 روپے 44 پیسے کا ہوگیا تھا۔
وزارت خزانہ سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں اور شرح تبادلہ میں ہونے والی ردوبدل کی روشنی میں حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی تبدیلی کے اثرات عوام تک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم عالمی منڈی میں تیل کی کم ہوتی قیمتوں اور ملک میں ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کے دعوے کے باوجود قیمتیں بڑھانے پر حکومت پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔