تیل پیداوارمیں کمی پرامریکا کی تنقید؛پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِیک جہتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان نے سعودی عرب اور روس کے زیرقیادت اوپیک پلس کے تیل کی یومیہ پیداوار میں کمی کے فیصلے کی بہ اندازدیگر حمایت کی ہے اور اس فیصلے کے ردعمل میں سعودی عرب کے خلاف امریکا کے تنقیدی بیانات کے تناظر میں مملکت کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔

اوپیک پلس؛تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور روس سمیت اتحادیوں پر مشتمل ہے۔تیل پیداکنندگان کے اس گروپ نے اس ماہ کے اوائل میں ویانا میں اپنے وزراتی اجلاس میں نومبر سے یومیہ پیداوار20 لاکھ بیرل کم کرنے پراتفاق کیا تھا۔

امریکا نے اوپیک پلس کے اس فیصلے پر اپنی ناراضی کا اظہارکیا تھا اور امریکی قیادت نے سعودی عرب مخالف بیانات جاری کیے تھے۔اس اعلان کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ سعودی عرب پر’’نتائج ومضمرات‘‘مسلط کریں گے کیونکہ اس نے تیل کی یومیہ پیداوار میں کمی کی حمایت کی ہے اور اس ضمن میں روس کا ساتھ دیا ہے۔

اوپیک پلس کا یہ اقدام مغربی ممالک کے یوکرین میں جنگ کے جواب میں روس کے خلاف عاید کردہ پابندیوں کو بھی کم زورکرتا ہے۔مغربی ممالک نے روس کی تیل کی برآمدات کی قیمت پر ایک حد عاید کرنے کا اقدام کیا ہے لیکن اوپیک پلس کے فیصلے سے ان کا یہ اقدام غیرمؤثرہوکررہ جائے گا۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ اور ڈیموکریٹ سینیٹر باب مینینڈیزنے اوپیک پلس کے اقدام کے بعد سعودی عرب کوبیشتر امریکی ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے دفترخارجہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ مارکیٹ میں اتارچڑھاؤ سے بچنے اور عالمی معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے بارے میں سعودی عرب کے خدشات کو سراہتا ہے۔

دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان نے باہمی احترام کی بنیادپرایسے معاملات پرہمیشہ تعمیری نقطہ نظر کی حوصلہ افزائی کی ہے۔بیان میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ، مستقل اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں