کراچی پولیس چیف کے دفتر پر حملہ، اہلکاروں سمیت 4 شہید، تمام دہشت گرد ہلاک

پولیس کی وردی میں دہشت گرد عمارت میں داخل ہوئے، فائرنگ اوردھماکے، 4 گھنٹے آپریشن کے بعد عمارت کلیئر کرا لی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

صوبہ سندھ کے دارالحکومت میں کراچی پولیس چیف کے دفتر پر دہشتگردوں نے حملہ کردیا۔ پولیس کی وردی میں دہشتگرد عمارت میں داخل ہوئے۔ عمارت میں فائرنگ شروع ہوگئی اور دھماکے بھی ہوتے رہے۔ پولیس کمانڈوز، رینجرز اہلکار دفتر کے اطراف پہنچ گئے اور آپریشن شروع کردیا گیا۔ دہشتگردوں نے فائرنگ کے ساتھ ساتھ دستی بموں کا بھی استعمال کیا گیا۔ چار گھنٹوں بعد فورسز نے آپریشن مکمل کرلیا اور عمارت کو کلیئر کردیا۔

دہشت گردوں اور فورسز میں جھڑپ کے دوران دو پولیس اہلکار، ایک رینجرز اور ایک خاکروب جاں بحق ہوگیا۔ تینوں دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔ ان میں سے ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر واقع کراچی پولیس کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا گیا تھا۔

ایڈیشنل آئی جی سندھ جاویدعالم اوڈھو نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حملے کی تصدیق کی اور بتایا کہ میرے دفتر پر حملہ ہوا ہے اور فائرنگ ابھی جاری ہے۔ آپریشن کے دوران شاہراہ فیصل کےایک حصے کو بند کردیا گیا تھا، عمارت کی بجلی بھی منقطع کردی گئی تھی۔

پولیس کے دفتر کے باہر دھماکے بھی سنے گئے اور فائرنگ کا سلسلہ مسلسل جاری ہے جبکہ پولیس کے دفتر کی لائٹیں بھی بند کردی گئی ہیں۔ ابتدائی طور پر 8 سے 10 مسلح دہشت گردوں کی جانب سے حملہ اور ان کی وہاں موجود گی کی اطلاع دی گئی تھی۔ تاہم بعد میں وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ حملہ آور تین تھے جنہیں مار دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایڈیشنل آئی جیز کے دفتر پر مبینہ حملے کا نوٹس لیتے ہوئے مختلف ڈی آئی جیز کو اپنی زون سے ضروری پولیس فورس بھیجنے کی ہدایت کر دی تھی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی حملے کا نوٹس لے لیا تھا اور وزیر داخلہ سے رپورٹ طلب کی۔ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا پشاور حملے کے بعد ایسے حملے کے خدشات موجود تھے۔ اس حملے میں بیرونی ہاتھ بھی ملوث ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں