اسلام آباد ہائی کورٹ: عمران خان کی 7 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریک انصاف پاکستان کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی 7 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے عمران خان کی سات مقدمات میں 6 اپریل تک عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کو گرفتاری سے روک دیا۔

ہائی کورٹ نے عمران خان کی بطور سابق وزیر اعظم سکیورٹی واپس لینے پر بھی حکومت سے جواب طلب کر لیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی۔

وکیل سلمان صفدر نے بتایا کہ عمران خان 18 مارچ کو یہاں آئے تھے لیکن انسداد دہشت گردی عدالت سے ضمانت نہیں لے سکے۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ آپ ٹرائل کورٹ کو کیوں بائی پاس کر رہے ہیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ عمران خان کو سکیورٹی تھریٹس ہیں، 18 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس گئے تھے لیکن داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے مدنظر ہے کہ آپ ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں جن کے فالورز بھی ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو کچھ 18 مارچ کو ہوا وہ غلط تھا۔ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ ان کو تھریٹس ہیں، تھریٹس کا ہمیں معلوم ہے ان پر حملہ بھی ہو چکا ہے۔

وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ 60 سال سے زائد عمر بائیو میٹرک کا ایشو ہوتا ہے، چیف جسٹس ہائیکورٹ نے استفسار کیا کیا 60 سال والوں کے انگوٹھے کا نشان نہیں ہوتا؟ ابھی تو ہم نے بائیو میٹرک کا بہت آسان کر دیا ہے۔

عدالت نے کہاکہ آپ کہیں بھی وہاں قریب سے بائیو میٹرک کرا سکتے ہیں، وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ عمران خان نے 17 مارچ حفاظتی ضمانت لاہور ہائی کورٹ سے کرائی تھی، پھر 18 مارچ یہاں آئے لیکن انسداد دہشت گردی عدالت سے ضمانت نہیں لے سکے، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ کیوں ٹرائل کورٹ نہیں گئے؟ پہلے اس پر عدالت کی معاونت کریں۔

عدالت نے کہا کہ عدالت کی اس پوائنٹ پر معاونت کریں آپ ٹرائل کورٹ کو کیوں بائی پاس کر رہے ہیں، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کو سکیورٹی تھریٹس ہیں، چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ اگر 5 سے 10 ہزار لوگ آ جائیں گے تو لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

عدالت نے کہاکہ ہمارے مدنظر ہے آپ ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، جن کے فالورز بھی ہیں، وکیل عمران خان نے کہاکہ ہم فالورز کو نہیں بلاتے بلکہ وہ خود آ جاتے ہیں، 18 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس گیا لیکن مجھے داخل نہیں ہونے دیا گیا، ٹرائل کورٹ کے باہر کے واقعات پر عدالت کی معاونت کروں گا۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان بات کرنے کیلئے روسٹرم پر آ گئے، عدالت نے عمران خان کو بات کرنے سے روک دیا۔ عمران خان نے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کہا کہ آپ قابل احترام ہیں لیکن بیٹھ جائیں، عمران خان دوبارہ اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں