عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی، وفاقی دارلحکومت میں دفعہ 144 نافذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے لیے لاہور میں اپنی رہائش گاہ زمان پارک سے قافلے کی شکل میں روانہ ہو گئے۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق عمران خان آج جوڈیشل کمپلیکس ہنگامہ آرائی کے حوالے سے پانچ کیسز میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے قانونی ماہرین کے توسط سے عبوری ضمانت کی درخواستیں دائر کریں گے۔

سابق وزیرِ اعظم کے خلاف اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ سے متعلق مختلف مقدمات تھانہ رمنا اور گولڑہ میں درج ہیں۔

عمران خان کے خلاف ایک مقدمہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ نے بھی درج کر رکھا ہے۔

سابق وزیرِ اعظم کے خلاف یہ تمام مقدمات گزشتہ ہفتے جوڈیشل کمپلیکس آمد کے موقع پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد درج کیے گئے تھے۔

ان مقدمات میں عبوری ضمانت کے لیے پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر عمران خان کے سینئر وکلا نعیم پنجوتھا اور سلمان صفدر بھی ہمراہ ہوں گے۔

یاد رہے لاہور ہائی کورٹ نے 27 مارچ تک پانچ کیسز میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کر رکھی ہے۔

پیمرا کی اسلام آباد میں سیاسی ریلی کی کوریج پر پابندی

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگیولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے عمران خان کی پیشی سے قبل اسلام آباد میں ایک روز کے لیے سیاسی ریلی یا اجتماع کی کوریج پر پابندی عائد کر دی ہے۔

پیمرا نے پیر کو جاری کردہ نوٹس میں کہا ہے کہ امن و امان کی صورتِ حال پیشِ نظر اسلام آباد میں احتجاجی ریلی یا عوامی اجتماع کی لائیو یا ریکارڈڈ کوریج نہیں کی جا سکتی۔

اس سے قبل اسلام آباد پولیس نے اتوار کو ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ عمران خان کی پیشی کے سلسلے میں آئی جی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا ہے کہ سکیورٹی انتظامات کی فیلڈ نگرانی ایس ایس پی یاسر آفریدی کریں گے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں صرف متعلقہ افراد کو عدالتی احاطے میں داخلے کی اجازت ہو گی۔

پولیس کے بیان کے مطابق اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ العمل ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں