انتخابات التوا کیس: سپریم کورٹ کا بینچ پھر ٹوٹ گیا، جسٹس جمال مندوخیل کی معذرت

چیف جسٹس نے سرکلر کے ذریعے قاضی فائز عیسیٰ کے ’ازخود نوٹس‘ کے فیصلے کو غیر مؤثر کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پنجاب، خیبرپختونخوا میں انتخابات ملتوی ہونے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر سماعت آج (جمعہ کو) دوبارہ شروع ہونے سے پہلے جسٹس جمال خان مندوخیل نے بھی سماعت سے معذرت کر لی۔

بینچ میں شمولیت سے معذرت کرتے ہوئے جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ جسٹس امین الدین خان کے بینچ سے علاحدگی کے فیصلے کے بعد حکم نامے کا انتظار تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے عدالتی حکم نامہ کل گھر پر موصول ہوا، حکم نامے پر میں نے الگ نوٹ لکھا ہے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل کا مزید کہنا تھا کہ میں بینچ کا رکن تھا لیکن میرے ساتھ مشاورت نہیں کی گئی اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ میں بینچ میں مس فٹ ہوں۔

اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ روز 5 رکنی بینچ میں شامل جسٹس امین الدین نے بھی خود کو سماعت سے علیحدہ کرلیا تھا کیوں کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے ایک دوسرے بینچ کے حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس میں آئین کی دفعہ 184 (3) کے تحت درج کیے گئے تمام مقدمات مؤخر کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

آج مقررہ وقت سے آدھا گھنٹہ تاخیر سے شروع ہونے والی کارروائی کے آغاز میں بظاہر پریشان چیف جسٹس آف پاکستان (سی جے پی) عمر عطا بندیال نے کہا تھا کہ جسٹس امین الدین کچھ کہنا چاہیں گے۔

جسٹس امین الدین نے خود کو بینچ سے علاحدہ کرنے کا اعلان کیا، جس کے ساتھ ہی 5 رکنی بینچ ٹوٹ گیا، جس کے کئی گھنٹوں بعد عدالتی عہدیدار نے اعلان کیا کہ کیس کی مزید سماعت جمعہ کی صبح 11:30 بجے ہو گی جس کے بینچ میں جسٹس امین الدین شامل نہیں ہوں گے۔

قبل ازیں سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے از خود نوٹس سے متعلق فیصلے پر سرکلر جاری کر دیا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری سرکلر کے حوالے سے جیو نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے ’’کہ جسٹس فائز اور جسٹس امین کے فیصلے میں آرٹیکل 184/3 پر آبزرویشن ازخود نوٹس میں آتی ہیں، 2 رکنی بینچ کا فیصلہ صحافیوں سے متعلق ازخود نوٹس کے 5 رکنی بینچ کے فیصلے کے منافی ہے اور 2 ججز کا فیصلہ قانونی طور پر لاگو نہیں ہوگا۔‘‘

عدالتی سرکلر میں کہا گیا ہے ’’کہ 2 ججز کا فیصلہ 5 رکنی بینچ کے فیصلے کے برعکس ہے، 5 رکنی بینچ قرار دے چکا ہے کہ ازخود نوٹس کا اختیار چیف جسٹس کے پاس ہے۔‘‘

سرکلر میں مزید کہا گیا ہے ’’کہ 15 مارچ کے فیصلے میں بینچ کی جانب سے ازخود نوٹس لیا گیا، لارجر بینچ نے جو قانون وضع کیا 2 ججز کا فیصلہ اس کے برعکس ہے، 2 رکنی بینچ کے فیصلے میں جو بھی آبزرویشنز دی گئیں وہ قابل عمل نہیں، ازخود نوٹس کا اختیار صرف چیف جسٹس پاکستان استعمال کر سکتے ہیں اور ازخود نوٹس کا اختیار آرٹیکل 184/3 کے طریقہ کارکے تحت ہی استعمال ہو سکتا ہے۔‘‘

واضح رہےکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں خصوصی بینچ نے رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 تھری (ازخود نوٹس) کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا حکم دیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 تھری کے تمام کیسز کو ملتوی کر دیا جائے۔

فیصلے کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کو خصوصی بینچ بنانے کا اختیار نہیں ہے، سپریم کورٹ رولز میں چیف جسٹس کو اسپیشل بینچ بنانے کا اختیار نہیں، اسپیشل بینچ میں مختلف بینچز سے ایک ایک جج کو شامل کیا گیا، عدالتی وقت ختم ہونے کے وقت کیس سماعت کیلئے مقرر کیا گیا۔

جسٹس قاضی فائز کے ازخود نوٹس سے متعلق فیصلے پر سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ میں شامل جسٹس امین الدین نے دو صوبوں میں انتخابات ملتوی کرنے کا کیس سننے سے معذرت کی تھی جس کے بعد لارجر بینچ ٹوٹ گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں