صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل نظرثانی کے لیے واپس بھجوا دیا

بادی النظر میں یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے: صدر عارف علوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

صدر ِپاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ(پریکٹس اینڈ پروسیجر)بل 2023 آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت نظر ثانی کے لیے پارلیمنٹ کو واپس بھجوا دیا۔ صدر مملکت نے کہا ہے کہ بادی النظر میں یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے۔

صدر مملکت کی جانب سے تین صفحات پر مشتمل خط وزیر اعظم میاں محمد شہبازشریف کو لکھا گیا ہے جس میں بل واپس نظرثانی کے لئے بھجوانے کے حوالہ سے وجوہات لکھی گئی ہیں۔ بل قانونی طور پر مصنوعی اور ناکافی (colourable legislation) ہونے پر عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں اس بل کی درستگی کے بارے میں جانچ پڑتال پورا کرنے کیلئے دوبارہ غور کرنے کیلئے واپس کرنا مناسب ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا مزید کہنا تھا کہ آئین سپریم کورٹ کو اپیلی، ایڈوائزری، ریویو اور ابتدائی اختیار سماعت سے نوازتا ہے۔مجوزہ بل آرٹیکل 184 تین ، عدالت کے ابتدائی اختیار سماعت ، سے متعلق ہے۔مجوزہ بل کا مقصد ابتدائی اختیار سماعت استعمال کرنے اور اپیل کرنے کا طریقہ فراہم کرنا ہے۔

صدر مملکت نے سوال کیا ہے کہ یہ خیال قابل تعریف ہو سکتا ہے مگر کیا اس مقصد کو آئین کی دفعات میں ترمیم کے بغیر حاصل کیا جا سکتا ہے؟ تسلیم شدہ قانون تو یہ ہے کہ آئینی دفعات میں ایک عام قانون سازی کے ذریعے ترمیم نہیں کی جاسکتی ۔آئین ایک اعلی قانون ہے، قوانین کا باپ ہے۔ آئین کوئی عام قانون نہیں، بلکہ بنیادی اصولوں، اعلی قانون اور دیگر قوانین سے بالاتر قانون کا مجسمہ ہے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 191سپریم کورٹ کو عدالتی کاروائی اور طریقہ کار ریگولیٹ کرنے کیلئے قوانین بنانے کا اختیار دیتا ہے۔ آئین کی ان دفعات کے تحت سپریم کورٹ رولز 1980بنائے گئے جن کی توثیق خود آئین نے کی۔ سپریم کورٹ رولز 1980 پر سال 1980 سے عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ جانچ شدہ قواعد میں چھیڑ چھاڑ عدالت کی اندرونی کارروائی، خود مختاری اور آزادی میں مداخلت کے مترادف ہو سکتی ہے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ ریاست کے تین ستونوں کے دائرہ اختیار، طاقت اور کردار کی وضاحت آئین نے ہی کی ہے۔ آرٹیکل 67 کے تحت پارلیمان کو آئین کے تابع رہتے ہوئے اپنے طریقہ کار اور کاروبار کو منظم کرنے کیلئے قواعد بنانے کا اختیار حاصل ہے۔ آرٹیکل 191کے تحت آئین اور قانون کے تابع رہتے ہوئے سپریم کورٹ اپنی کارروائی اور طریقہ کار کو ریگولیٹ کرنے کے قواعد بنا سکتی ہے۔ آرٹیکل 67 اور 191 ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ آرٹیکل 67 اور 191 قواعد بنانے میں دونوں کی خود مختاری کو تسلیم کرتے ہیں۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 67 اور 191 دونوں اداروں کو اختیار میں مداخلت سے منع کرتے ہیں۔ عدلیہ کی آزادی کو مکمل تحفظ دینے کیلئے آرٹیکل 191 کو دستور میں شامل کیا گیا۔ آرٹیکل 191 کے تحت سپریم کورٹ کو پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار سے باہر رکھا گیا۔ پارلیمنٹ کا قانون سازی کا اختیار بھی آئین سے ہی اخذ شدہ ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا مزید کہنا تھا کہ آرٹیکل 70 وفاقی قانون سازی کی فہرست میں شامل کسی بھی معاملے پر بل پیش کرنے اور منظوری سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 142 اے کے تحت پارلیمنٹ وفاقی قانون سازی کی فہرست میں کسی بھی معاملے پر قانون بنا سکتی ہے۔

فورتھ شیڈول کے تحت پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے علاوہ تمام عدالتوں کے دائرہ اختیار اور اختیارات کے حوالے سے قانون سازی کا اختیار ہے۔ فورتھ شیڈول کے تحت سپریم کورٹ کو خاص طور پر پارلیمان کے قانون سازی کے اختیار سے خارج کیا گیا ہے۔بل بنیادی طور پر پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ بل کے ان پہلوئوں پر مناسب غور کرنے کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت نے بل کو واپس بھجواتے ہوئے اپنا مئوقف تفصیلی طور پر لکھا ہے۔ جبکہ ایک نجی ٹی وی کے مطابق حکومت کی جانب سے 10 اپریل کو طلب کئے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں یہ بل دوبارہ منظور کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظوری کے بعد صدر مملکت اس پر دستخط کے پابند ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں