سویڈش سفارت خانے کا سرگرمیاں معطل کرنے پر پاکستان کا ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں سویڈش سفارت خانے نے "سکیورٹی خدشات" کے سبب اپنی سرگرمیاں غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے سرگرمیاں معطل کرنے کے اسباب کو گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سویڈن کی جانب سے سکیورٹی خدشات کے سبب اسلام آباد میں اپنے سفارت خانے کی سرگرمیاں معطل کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان نے جمعرات کے روز اسکینڈنیویائی ملک کے سفارتی مشن کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

پاکستان میں سویڈن کے سفارت خانے نے سوشل میڈیا اور اپنی ویب سائٹ پر ایک نوٹس شائع کرکے "سکیورٹی خدشات" کے سبب اپنی سرگرمیاں غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حالانکہ اس بیان میں انہوں نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد کی دیگر نوعیت کی تفصیلات نہیں بتائی ہیں۔

یورپی ملک کے اس سفارت خانے نے پہلے پانچ اپریل اور پھر11 اپریل کو اس سلسلے میں نوٹس جاری کیے۔ ان میں کہا گیا ہے، "اسلام آباد میں سکیورٹی کی موجودہ صورت حال کے باعث سویڈن کا سفارت خانہ وزیٹرز کے لیے بند ہے۔"

دفتر خارجہ کا بیان

پاکستانی دفتر خارجہ نے اس حوالے سے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کیا، جس کے مطابق سکریٹری خارجہ ڈاکٹر اسد مجید نے سویڈن کے سفیر ہینرک پیرسن سے ملاقات کی۔

انہوں نے سویڈش سفیر سے کہا کہ "سویڈن سفارت خانے کی ویب سائٹ پر لگایا گیا نوٹس گمراہ کن ہے کیونکہ اسلام آباد میں سکیورٹی کی صورت حال معمول کے مطابق ہے۔"

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق سویڈن کے سفیر نے سکریٹری خارجہ کو آگاہ کیا کہ یہ "ایک غیر متوقع صورت حال کی وجہ سے عارضی اقدام ہے، جسے جلد ہی درست کر دیا جائے گا۔"

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سویڈن کے سفیر نے واضح کیا کہ "سفارت خانہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا ہے۔" پاکستان کے سکریٹری خارجہ نے سویڈن کے سفیر کو بتایا کہ "حکومت پاکستان اسلام آباد میں تمام سفارتی مشنز کی حفاظت یقینی بنائے گی۔"

سفارتی سرگرمیاں معطل ہونے سے پاکستانی طلبہ متاثر

سفارتی سرگرمیاں معطل ہوجانے سے ایسے پاکستانی طلبہ سب سے زیادہ متاثر ہوں گے جو سویڈن میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ سویڈن کی یونیورسٹیوں میں تعلیمی سال کا آغاز اگست میں ہوتا ہے جس کے لیے ویزا کی درخواستیں کافی پہلے دینی پڑتی ہیں کیونکہ ویزا ملنے میں چار سے پانچ ماہ لگ جاتے ہیں۔

طلبہ کے علاوہ سویڈن میں رہنے والے ان پاکستانیوں پر بھی سفارتی سرگرمیوں کی معطلی کا اثر پڑے گا جو اپنے رشتہ داروں اور عزیز و اقارب سے ملاقات کے لیے سفر کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق سکریٹری خارجہ نے سویڈش سفیر پر زور دیا کہ پاکستانی طلبہ کی ہرممکن سہولت فراہم کی جائے۔ سفیر نے ان مسائل کو فوری اور خوش اسلوبی سے حل کرنے پر اتفاق کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں