پاکستانی کوہ پیمائوں نے دنیا کی 10 ویں بلند ترین چوٹی پر سبز ہلالی پرچم لہرا دیا

شہروز 8000 میٹر سے اوپر 11 چوٹیاں سر کرنے والے دنیا کے کم عمر ترین کوہ پیما بن گئے ہیں جبکہ نائلہ اناپورنا کو سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن گئی ہیں۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

نیپال کے صوبے گنڈاکی میں واقع دنیا کی 10ویں بلند ترین چوٹی ماؤنٹ اناپورنا 1 (8091 میٹر) پر پاکستانی کوہ پیماؤں شہروز کاشف اور نائلہ کیانی نے قومی پرچم لہرا کر ایک بار پھر ملک کا سر فخر سے بلند کر دیا۔

الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری کرار حیدری نے اے پی پی کو بتایا کہ شہروز، نائلہ اور سیون سمٹ ٹریکس ٹیم کے دیگر ارکان آج بروز پیر صبح ساڑھے چھ سے ساڑھے سات بجے کے درمیان کامیابی کے ساتھ اناپورنا پہنچے۔ شہروز 8000 میٹر سے اوپر 11 چوٹیاں سر کرنے والے دنیا کے کم عمر ترین کوہ پیما بن گئے ہیں جبکہ نائلہ اناپورنا کو سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نائلہ 8 ہزار میٹر سے زیادہ بلند چار چوٹیاں سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما ہیں۔ اس سے قبل ہفتہ کے روز ساجد علی سدپارہ آکسیجن کے بغیر کامیابی کے ساتھ اناپورنا پہنچ گئے تھے۔ کرار حیدری نے بتایا کہ ساجد علی سدپارہ کی چوتھی آٹھ ہزار والی سمٹ ہے اور انہوں نے سبھی آکسیجن کے بغیر چڑھیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی کوہ پیماؤں کو کوہ پیمائی میں نئے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے دیکھنا خوش آئند ہے۔

حیدری کے مطابق تینوں پاکستانی کوہ پیما ابتدائی طور پر بیس کیمپ میں ایک ساتھ تھے، تاہم نائلہ اور شہروز جو اضافی آکسیجن کے ساتھ چڑھ رہے تھے انہوں نے چوٹی سر کرنے کی کوشش کے لئے ایک مختلف شیڈول کا انتخاب کیا۔ 11 مارچ 2002 کو پیدا ہونے والے شہروز نے 27 جولائی 2021 کو کے ٹو کو سر کرنے والے دنیا کے کم عمر ترین کوہ پیما بن کر تاریخ رقم کی تھی، وہ 11 مئی 2021 کو ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے سب سے کم عمر پاکستانی بھی بن گئے تھے۔ ماؤنٹ ایورسٹ کی کامیاب چوٹی سر کرنے کے بعد پنجاب اسپورٹس بورڈ نے انہیں پنجاب کا یوتھ ایمبیسڈر بنا دیا۔ انہوں نے 17 سال کی عمر میں براڈ پیک کو سر کیا جس کے بعد انہیں ‘دی براڈ بوائے’ کہا جانے لگا۔

انہوں نے 11 سال کی عمر میں پہاڑوں پر چڑھنا شروع کیا جس کے بعد 12 سال کی عمر میں موسٰی کا مصلیٰ اور چیمبرا چوٹی، 13 سال کی عمر میں شمشال میں منگلی سر، 15 سال کی عمر میں خردوپین پاس اور 18 سال کی عمر میں خوسر گینگ پہاڑ سر کیا ۔شہروز کے پاس اس وقت کے ٹو اور براڈ چوٹی سر کرنے والے سب سے کم عمر ہونے کا گنیز ورلڈ ریکارڈ ہے۔

5 مئی 2022 کو وہ دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی کنگچن جنگا کی پہنچنے والے دنیا کے سب سے کم عمر اور پہلے پاکستانی بن گئے۔ 16 مئی، 2022 کو انہوں نے نیپال میں دنیا کی چوتھی بلند ترین چوٹی، ماؤنٹ لہوٹس (8،516 میٹر) کو سر کیا۔یکم نومبر 2022 کو، شہروز کو ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو (K2) کو سر کرنے پر گنیز ورلڈ ریکارڈز نے سال 2023 کے لئے تسلیم کیا، جولائی 2022 میں شہروز اور فضل علی کیمپ 4 اور کیمپ 3 کے درمیان نانگا پربت کو کامیابی سے سر کرنے کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے، تاہم کچھ ہی دیر بعد ان دونوں کو ڈھونڈ لیا گیا تھا ۔

دو بچوں کی ماں نائلہ دبئی میں مقیم پاکستانی بینکر اور شوقیہ باکسر ہیں، وہ 2018 میں کے ٹو بیس کیمپ میں اپنی شادی کی شوٹنگ کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرنے کے بعد مشہور ہوئیں۔ انہوں نے 2021 میں گیشربرم -2 (8035 میٹر) اور گیشربرم -1 (8068 میٹر) کو سر کیا۔

انہوں نے جولائی 2022 میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو (8,611) کو بھی سر کیا تھا۔ ثمینہ بیگ جو کے ٹو سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون ہیں کے اس کارنامے کے کچھ ہی دیر بعد نائلہ نے کے ٹوکی چوٹی سر کی تھی۔مرحوم کوہ پیما علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ پہلے ہی پاکستان میں کے ٹو، گیشربرم -1 اورگیشربرم -2 اور نیپال میں مانسلو (8163 میٹر) کو اضافی آکسیجن کے بغیر سر کر چکے ہیں۔

ان کا مقصد اضافی آکسیجن کے بغیر دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر والی چوٹیاں سر کرنا ہے۔ انہوں نے کم عمری میں سب سے مشکل چوٹیوں کو سر کرکے الپائن کمیونٹی میں اپنا نام بنایا ، وہ اضافی آکسیجن کے بغیر دو بار کے ٹو سر کر چکے ہیں ۔ 2022 میں انہوں نے اضافی آکسیجن کے بغیر مناسلو چوٹی کو سر کیا اور ایسا کرنے والے پہلے پاکستانی بن گئے۔

اس سے قبل انہوں نے بغیر اضافی آکسیجن کے تین دن اور 18 گھنٹوں میں گیشربرم-1 اور گیشربرم-2 کو سر کرکے بھی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ صدر الپائن کلب آف پاکستان، نیشنل کوہ پیمائی اور سپورٹس کلائمبنگ فیڈریشن ابو ظفر صادق نے پاکستانی کوہ پیماؤں شہروز کاشف اور نائلہ کیانی کو دنیا کی 10 ویں بلند ترین چوٹی ماؤنٹ اناپورنا 1 پر قومی پرچم لہرانے پر مبارکباد دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں