دہشت گردی مخالف جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہےگی:ترجمان پاک فوج

انتخابات میں فوج کی تعیناتی سے متعلق وزارتِ دفاع نے اپنا جواب الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
11 منٹ read

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان کی داخلی اور سرحدوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہم مُکمل طور پرتوجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، دہشت گردی کے خلاف ہماری کامیاب جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ہم عوام کے تعاون سے ہرچیلنج پر قابو پالیں گے اور وطن عزیز کو مستحکم اوردَائمی امن کا گہوارہ بنائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان بھارت کی ان تمام شر انگیزیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمہ وقت تیار اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔وہ منگل کو آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ راول پنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔یہ ان کی بہ طور ڈی جی،آئی ایس پی آرپہلی نیوزکانفرنس تھی۔

انھوں نے کہا کہ پاک فوج غیر سیاسی ادارہ ہے،افواج پاکستان اور منتخب حکومت کا غیر سیاسی اور آئینی رشتہ ہوتا ہے،اسے سیاسی رنگ دینا مناسب بات نہیں ہے،افواج پاکستان کسی خاص سیاسی سوچ اور جماعت کی نمائندگی نہیں کرتیں۔انھوں نے کہا کہ الیکشن کے لیے فوج کی تعیناتی کے بارے میں وزارت دفاع نے زمینی حقائق کے مطابق اپنا جواب الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ میں پیش کر دیا ہے۔

میجرجنرل احمد شریف چودھری نے پریس کانفرنس میں رواں سال کے دوران سکیورٹی اور دہشت گردی کے اہم واقعات پر روشنی ڈالی۔انھوں نے بتایا کہ پاک بھارت ڈی جی ایم او کے درمیان رابطےاور سیز فائر لائن معاہدے کے بعدکی صورتحال بہتررہی ہے ۔ہندوستانی لیڈر شپ کی گیدڑ بھبکیاں اورلائن آف کنٹرول پردراندازی، تکنیکی فضائی خلاف ورزیوں اور دیگر الزامات کا لگاتار جھوٹا پراپیگنڈا ،بھارت کے ایک خاص سیاسی ایجنڈے کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے قائم کردہ مبصر گروپ کے ساتھ ہمیشہ تعاون کیا، لائن آف کنٹرول پرمکمل رسائی دی گئی ہے، بھارت کی جانب سے ایسا کچھ نہیں کیا گیا، بین الاقوامی میڈیا، او آئی سی سیکریٹری جنرل سمیت 16 دورے کرائے گئے ہیں ۔ رواں سال بھارت کی جانب سےاب تک 56 مرتبہ چھوٹی سطح پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔اس عرصے میں پاک فوج نے 6 جاسوس کواڈ کاپٹرز کو بھی مار گرایا۔

انھوں نے بتایا کہ افواجِ پاکستان بھارت کی ان تمام شر انگیزیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمہ وقت تیار اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے پر عزم ہیں ۔انھوں نے بتایا کہ پچھلے کچھ عرصے سے دہشت گرد صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی کارروائیاں کررہے ہیں ۔افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاکے بعد پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں نسبتاًاضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ رواں سال میں دہشت گردی کے مجموعی طور پر چھوٹے بڑے 436 واقعات رونما ہوئے۔ان میں 293 افراد شہیداور521 زخمی ہوئے۔ خیبرپختونخوا میں 219 واقعات میں 192 افراد شہیداور 330 زخمی ہوئے۔بلوچستان میں 206 واقعات میں 80 افراد شہید اور170 زخمی ہوئے۔صوبہ پنجاب میں دہشت گردی کے پانچ واقعات ہوئے جن میں 14 افراد شہید جبکہ 3 زخمی ہوئے۔رواں سال سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں اور اُن کے سہولت کاروں کے خلاف 8269 چھوٹے بڑے انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیے۔ان میں لگ بھگ 1535 دہشت گردوں کو واصل جہنم یا گرفتار کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ مختلف علاقوں میں کچھ دہشت گرد سرگرم عمل ہے جن کی روزانہ کی بنیاد پر سرکوبی کی جارہی ہے ۔دہشت گردی کے واقعات میں ملوث دہشت گردوں، سہولت کاروں، منصوبہ سازوں کوگرفتار کیا گیا۔پشاور میں مسجد میں دھماکا اور کراچی میں واقعہ واضح کرتا ہے کہ ان دہشت گردوں کا ریاست پاکستان اور دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ شواہد سے سامنے آیا کہ یہ دہشت گرد افغان تھا، مزید دہشت گردوں جن کی تربیت ہوئی تھی،انھیں گرفتار کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ رواں سال آپریشنزکے دوران میں 137افسروں اور جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔117افسر اور جوان زخمی ہوئے۔پُوری قوم اِن بہادر سپوتوں کو خراج عقیدت اور اِن کے لواحقین کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جنھوں نے اپنی قیمتی جانیں ملک کی امن و سلامتی پرقربان کردی ۔ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے افواجِ پاکستان، انٹیلی جنس ایجنسیوں، قانون نافذ کرنے والےاداروں کی صلاحیتوں پر کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود پاک افواج کی دہشت گردی کے خلاف قربانیاں اور کامیابیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔اگر پاکستان کا موازنہ دیگر ممالک سے کیا جائے تو جس طرح پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی اور لڑ رہے ہیں، اس کا نہ صرف دُنیا نے اعتراف کیا ہے بلکہ اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔دہشت گردی کے خلاف ہماری کامیاب جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔

انھوں نے بتایا کہ بارڈر مینجمنٹ کے تحت 2611 کلومیٹرطویل پاک افغان سرحد پر98 فی صد سے زیادہ کام مُکمل کرلیا گیا ہے۔پاک ایران بارڈر پر85 فی صدسے زائد کام مُکمل ہو چکا ہے۔پاک -افغان بارڈر پر دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی روک تھام کے لیے 85 فی صد قلعے مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ پاک ایران بارڈر پر33فی صد قلعے مکمل ہو چکے ہیں اورباقی قلعوں پر کام تیزی سے جاری ہے، اب تک 3141 کلومیٹر کے علاقے میں باڑلگا دی گئی ہے،اس کا مقصد دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنا ہے۔اس قومی منصوبے کی تکمیل کے لیے پاک افواج کے کئی جوانوں نے اپنی جانیں بھی قربان کیں مگرامن کے دشمنوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ ایک مصمم کوشش کے ذریعے قبائلی علاقوں میں 65 فی صد علاقے کو بارودی سُرنگوں سے پاک کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علماء کرام اور میڈیا نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اور یہ قابلِ ستائش ہے،ٹی ٹی پی کے جھوٹے بیانیے کوعلماء کرام، میڈیا اورصحافیوں کی مدد سے رَد کر دیا ہے ،قانون کی بالادستی اور پاسداری سے ہی معاشرے ترقی کرتے ہیں ، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سماجی اقتصادی حکمت عملی ایک کلیدی حیثیت کاحامل ہے جہا ں پرسکیورٹی ادارے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔

میجرجنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ 2دہائیوں کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اس دہشت گردی کی جنگ کا بحیثیت قوم یکجا ہو کر بہادری سے مقابلہ کیا ہے اورکررہےہیں،ہمارا یہ سفر قربانیوں اور لازوال حوصلوں کی ایک شاندار مثال ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کے عفریت کا کامیاب حکمت عملی اور قومی اتحاد سے بھرپور سامنا کیا ہے اور ان شااللہ اس کےدائمی خاتمے تک یہ جدو جہد جاری رہے گی۔ہم سب کو پاکستان کو ایک خُوشحال، پُر امن اور محفوظ مُلک بنانے کے لیے اپنا اپنا انفرادی اور اجتماعی کِردار اَدا کرتے رہنا ہو گا۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ بھارت کے جارحانہ عزائم اور بے بنیادالزامات اور دعوے تاریخ کے اوراق کو نہیں بدل سکتے ، کشمیر کی عالمی تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو نہیں بدل سکتے ، کشمیر کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ رہا ہے اور نہ ہو گا۔آرمی چیف جنرل عاصم منیرنے کمان سنبھالنے کے بعد پہلا دورہ لائن آف کنٹرول کا کیا اور واضح کیا کہ پاک فوج ملک کے چپے چپے کا دفاع کرنا جانتی ہے، اگر کوئی مہم جوئی کا حوصلہ کرتا ہے تو افواج پاکستان اسکا بھر پور جواب دے گی ۔

انھوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف انتہائی کٹھن اور قربانیوں سے بھرپور جنگ لڑی ہے۔بھارت کے پروپیگنڈے پر بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آپریشنل تیاریوں میں کمی ہے ایسا کچھ نہیں ہے، فی کس خرچہ پہلے بھی بھارتی فوج کا زیادہ تھا لیکن ہمارا دفاع مضبوط ہے ،ہم شہادت کو آگے بڑھ کر گلے لگاتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہر شخص اپنی رائے کا حق رکھتا ہے ، آرمی چیف سید عاصم منیراس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ اصل طاقت کا محورومرکز پاکستان کے عوام ہے ، پاک فوج ایک قومی فوج ہے ،ہمارے لیے تمام سیاستدان اور جماعتیں قابل احترام ہیں۔کوئی یہ نہیں چاہیے گا کہ فوج خاص سیاسی سوچ،نظریے کی جانب راغب ہو۔افواج پاکستان میں ہر مسلک ،ہر علاقے اور پورے پاکستان کی نمائندگی ہے مگر وہ خاص سوچ نہیں رکھتی۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ آئین پاکستان ہرشہری کو آزادی رائے کا حق دیتا ہے لیکن چند حدود وقیود کے ساتھ۔ افواج پاکستان اور اداروں کے خلاف بات چیت نہ صرف غیر ذمہ دارانہ بلکہ غیر آئینی ہے۔ ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ اس کے پیچھے کچھ ذاتی اور سیاسی مقاصد ہیں ،ایجنڈے کو آگے بڑھایا جارہا ہے، ہمارا نظم اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہر الزام کا جواب دیں۔عوام بھی یہ نہیں چاہیے گی کہ افواج ایک لاحاصل بحث میں پڑجائے ، اپنی توجہ اصل مقصد سے ہٹا کران امور پر توجہ دے۔

ایک سوال کے جواب میں پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ ریٹائرڈ افسراور جوان ہمارا اثاثہ ہیں، افواج پاکستان کے لیے ان کی بیش بہا قربانیاں ہیں، ان کی فلاح وبہبود کے لیے مربوط طریقہ موجود ہے ، سابق فوجیوں کی تنظیموں کا بنیادی مقصد مسائل کو اجاگر کرنا ہوتا یہ سیاسی یا کمرشل تنظیمیں نہیں ہوتیں اور نہ ہی ان کو ہونا چاہیے ۔سابق فوجی ہونے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کو پاکستان کے قانون سے استثنا حاصل ہے ،سابق فوجیوں کی تنظیموں کو سیاست کا لبادہ نہیں اوڑھنا چاہیے۔

ایک اورسوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے تمام سیاسی قیادت اور جماعتیں قابل احترام ہیں ، پاک فوج غیرسیاسی ادارہ ہے ،اس کے پیچھے ایک منطق ہے،اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔پاک فوج اور عوام نہیں چاہیں گے کہ افواج پاکستان کسی سیاسی جماعت کی طرف راغب ہوں، سیاسی قیادت کو چائیے کہ افواج پاکستان اور متنخب حکومت کا غیر سیاسی اور آئینی رشتہ ہوتا ہے اسے سیاسی رنگ دینا مناسب بات نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں