توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان پر فردِ جرم عائد

القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان پر فرد جرم عائد کردی گئی۔

القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار عمران خان کو آج احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے روبرو پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے عمران خان پر فرد جرم عائد کردی۔

سابق وزیر اعظم کے وکیل نے بتایا کہ عمران خان پر فرد جرم مؤخر کرنے کی استدعا کی گئی تھی لیکن سیشن جج نے درخواست مسترد کر دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدالت نے فرد جرم عائد کرنا چاہی، ہم بایئکاٹ کر کے باہر آ گئے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ 5 مئی کو مقامی عدالت نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں ان کے وکلا کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں اور عمران خان کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے 10مئی کو (آج) طلب کیا تھا۔

توشہ خانہ ریفرنس

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ سنانے کے بعد کے ان کے خلاف فوجداری کارروائی کا ریفرنس عدالت کو بھیج دیا تھا جس میں عدم پیشی کے باعث ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں۔

گذشتہ برس اگست میں حکمراں اتحاد کے 5 ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے توشہ خانہ ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔

ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔

آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا تھا کہ 62 (ون) (ایف) کے تحت نااہلی صرف عدلیہ کا اختیار ہے اور سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں۔

عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں 7 ستمبر کو الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جواب کے مطابق یکم اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 کے دوران وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔

بتایا گیا کہ یہ تحائف زیادہ تر پھولوں کے گلدان، میز پوش، آرائشی سامان، دیوار کی آرائش کا سامان، چھوٹے قالین، بٹوے، پرفیوم، تسبیح، خطاطی، فریم، پیپر ویٹ اور پین ہولڈرز پر مشتمل تھے البتہ ان میں گھڑی، قلم، کفلنگز، انگوٹھی، بریسلیٹ/لاکٹس بھی شامل تھے۔

جواب میں بتایا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم کی ادا کر کے خریدا۔

اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں 4 تحائف فروخت کیے تھے۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد سرکاری خزانے سے تحائف کی فروخت سے تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کیے، ان تحائف میں ایک گھڑی، کفلنگز، ایک مہنگا قلم اور ایک انگوٹھی شامل تھی جبکہ دیگر 3 تحائف میں 4 رولیکس گھڑیاں شامل تھیں۔

چنانچہ 21 اکتوبر 2022 کو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے خلاف دائر کردہ توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے عمران خان کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 کی شق ’ایک‘ کی ذیلی شق ’پی‘ کے تحت نااہل کیا جبکہ آئین کے مذکورہ آرٹیکل کے تحت ان کی نااہلی کی مدت موجودہ اسمبلی کے اختتام تک برقرار رہے گی۔ فیصلے کے تحت عمران خان کو قومی اسمبلی سے ڈی سیٹ بھی کر دیا گیا تھا۔

جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ

درایں اثنا چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو احتساب عدالت کے سامنے پیش کردیا گیا ہے، جہاں جج محمد بشیر نے وکلا کے دلائل، عمران خان کا بیان اور نیب کا مؤقف سننے کے بعد القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

سابق وزیراعظم کو القادر یونیورسٹی کیس میں گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد آج احتساب عدالت کے رو برو پیش کیا گیا، اور نیب نے عمران خان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی۔

نیب کی جانب سے عدالت میں عمران خان کی گرفتاری کی وجوہات پیش کر دی گئیں۔ دوران سماعت عمران خان کے وکیل خواجہ حارث، علی بخاری اور بیرسٹر گوہر عدالت میں پیش ہوئے اور عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی۔

بعد ازاں احتساب عدالت اسلام آباد میں القادر ٹرسٹ کیس میں وقفے کے بعد عدالتی کارروائی کا دوبارہ آغاز ہوا، جس میں عمران خان اپنے وکلا کے ہمراہ دوبارہ پیش ہوئے۔ القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی نمائندگی خواجہ حارث، بیرسٹر علی گوہر اور ایڈووکیٹ علی بخاری نے کی جب کہ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی، اسپیشل پراسیکیوٹر رافع مقصود اور نیب کے پراسیکیوٹر سردار ذوالقرنین عدالت میں موجود تھے۔

نیب کی طرف سے انویسٹی گیشن آفیسر میاں عمر ندیم بھی عدالت میں موجود تھے، جہاں نیب کی طرف سے 14روزہ جسمانی ریمانڈ لینے کی استدعا کی گئی۔

دوران سماعت عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے احتساب عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میرے مؤکل کی گرفتاری غیر قانونی طور پر کی گئی ۔ عمران خان کی گرفتاری کے لیے مناسب طریقہ نہیں اپنایا گیا۔ نیب نے نوٹس تو بھیجا لیکن شکایت کو کب ریفرنس میں تبدیل کیا ؟ ۔ عمران خان کو کئی دیگر کیسز میں گھسیٹا جارہا ہے۔ میرا مؤکل شامل تفتیش ہوکر تحقیقات میں تعاون کرے گا۔ جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو گرفتاری کے وقت وارنٹ دکھائے گئے تھے، جس پر عمران خان نے کہا کہ مجھے وارنٹ نیب دفتر پہنچنے پر دکھائے گئے۔ پراسیکیوٹر نیب نے عمران خان کے وکلا کو دستاویزات فراہمی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ یہ کرپشن کا کیس ہے جس کی تحقیقات برطانیہ کی این اے سی نے کی۔ اس کیس کی رقم حکومت پاکستان کو منتقل ہونا تھی۔

وکیل خواجہ حارث نے دلائل میں مزید کہا کہ نیب کہہ رہا ہے کہ ہم نے ریکارڈ اکٹھا کرنا ہے، کون سا ریکارڈ ان کو چاہیے جو میں نہیں مان رہا۔ عمران خان نے کہا کہ جو بھی پیسے آئے تھے کابینہ کی منظوری سے آئے تھے۔ اس میں ہمارے پاس 2 آپشنز ہوتے ہیں یا تو ہم مان جائیں تو پیسہ آ جائے گا۔ دوسرا ہمیں لیٹیگیشن (قانونی چارہ جوئی) میں جانا ہو گا تو ہم باہر ہر کیس ہار جاتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ آج تک ہم 100ملین روپے لگا چکے لیٹیگیشن (قانونی چارہ جوئی) پر۔ میں 24 گھنٹے سے باتھ روم میں نہیں گیا ہوں۔ مجھے ہراس کیا گیا، شیشے توڑے گئے۔ میرے ڈاکٹر کو بلا لیں ڈاکٹر فیصل۔ یہ ایک انجکشن لگاتے ہیں جو بندہ آہستہ آہستہ مر جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں میرے ساتھ مسعود چپڑاسی والا کام نہیں ہوا۔

دوران سماعت عمران خان کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی فِٹ قرار پائے ہیں۔ بعد ازاں احتساب عدالت نے القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں