پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور قومی اسمبلی کے رُکن علی وزیر گرفتار

علی وزیر کو رواں سال فروری میں دو سال قید کے بعد رہا کیا گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان میں سکیورٹی محکمے کے اہلکاروں نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور قومی اسمبلی کے رُکن علی وزیر کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ علی وزیر کو کن دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

پیر کو شمالی وزیرستان میں رُکن قومی اسمبلی کے ہمراہ اُن کی تحریک کے ساتھیوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔

علی وزیر کو دسمبر 2020 میں پشاور سے گرفتار کرکے کراچی پولیس کے حوالے کیا گیا تھا اور وہ اس کے بعد سے کراچی سینٹرل جیل ہی میں قید تھے۔ علی وزیر کو رواں سال فروری میں دو سال قید کے بعد رہا کیا گیا تھا۔

وہ منظور پشتین اور دیگر کے ہمراہ گذشتہ چند روز سے پی ٹی ایم کے کارکنوں کی غیر قانونی حراست، تشدد اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف میرانشاہ میں دھرنا دیے بیٹھے تھے۔

ادھر جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق نے کہا ہے کہ علی وزیر کی شمالی وزیرستان سے ایک دفعہ پھر گرفتاری قابل مذمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‏شمالی و جنوبی وزیرستان پہلے سے شدید بدامنی کے لہر میں ہیں۔ ایسے میں منتخب نمائندوں پر کریک ڈاؤن، ان کی گرفتاری حالات اور ماحول کو مزید خراب کر رہی ہے۔

سینیٹر مشتاق نے کہا کہ وفاقی ، صوبائی حکومت ، سیکورٹی ادارے منتخب نمائندوں کی گرفتاری کے بجائے امن وامان پر توجہ دیں، منتخب نمائندوں پر اپنی ناکامی کا ملبہ گرانے کی بجائے امن وامان کی بحال کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ‏علی وزیر اور گرفتار کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

علی وزیر کون ہیں؟

علی وزیر خیبر پخنونخوا میں کچھ عرصے قبل ضم ہونے والے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے آزاد حیثیت سے پہلی بار رکن قومی اسمبلی بنے ہیں۔

وہ احمد زئی وزیر قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کی گومل یونی ورسٹی سے تعلیم مکمل کی تھی۔ اپنے سیاسی نظریات اور اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں مبینہ کردار پر کھل کر اظہارِ خیال کرنے پر انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علی وزیر کے والد، بھائیوں، چچا، کزن سمیت خاندان کے 18 افراد مختلف واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں