پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان عملے کی سطح پر 3 ارب ڈالر کا طے پا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی انتظامات (ایس بی اے) پر عملے کی سطح کا معاہدہ ہو گیا۔

خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس کا اعلان قرض دہندہ ادارے کی جانب سے کیا گیا۔ پاکستان کو آئی ایم ایف سے 3 ارب ڈالر کے قرضہ پروگرام کی ابتدائی منظوری مل گئی، جس سے ڈیفالٹ کا خطرہ کم ہو گیا۔

آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اسٹاف لیول معاہدہ کی منظوری دے گا جب کہ ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس جولائی کے وسط میں ہو گا۔ آئی ایم ایف اور پاکستانی کے درمیان طے پانے والا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) معاہدہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔

اعلامیہ کے مطابق نیا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدہ حالیہ بیرونی جھٹکوں سے معیشت کو مستحکم کرنے، میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنے اور کثیر جہتی اور دو طرفہ شراکت داروں سے فنانسنگ کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرنے کے لیے حکام کی فوری کوششوں کی حمایت کرے گا۔

مزید یہ کہ نیا ایس بی اے معاہدہ پاکستانی عوام کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کے لیے ملکی آمدنی کو بہتر بنانے اور محتاط اخراجات پر عمل درآمد کے ذریعے سماجی اور ترقیاتی اخراجات کے لیے جگہ بھی پیدا کرے گا۔

آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کے موجودہ چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے مستحکم پالیسی پر عمل درآمد کلیدی حیثیت رکھتا ہے، بشمول زیادہ مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی دباؤ کو جذب کرنے کے لیے مارکیٹ کا تعین شدہ زر مبادلہ کی شرح اور اصلاحات پر مزید پیش رفت، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں، موسمیاتی لچک کو فروغ دینے، اور بہتر بنانے میں مدد کرنا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان 1950 کی دہائی سے تقریباً 2 درجن بیل آؤٹ کے ساتھ آئی ایم ایف کے سب سے بڑے صارفین میں سے ایک ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں