پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کا عزم کر رکھا ہے: وزیر دفاع خواجہ آصف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

’’پاکستان نے اپنی سرزمین سے دہشت گردی کا جڑ سے خاتمے کا عزم کر رکھا ہے خواہ افغانستان اس معاملے میں ہم سے تعاون کرے؛ یا نہ کرے۔‘‘ اس امر کا اظہار وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کیا ہے۔

افغان سرزمین پر شرپسند عناصر کی مبینہ موجودگی کے معاملے پر حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

خواجہ آصف کا بیان طالبان ترجمان ذبیح اللّٰہ مجاہد کے تبصروں کے جواب میں سامنے آیا ہے جو انہوں نے بی بی سی پشتو کو انٹرویو دیتے کیا۔ ذبیح اللہ مجاہد کے بہ قول طالبان نے اقوامِ متحدہ کے ساتھ دوحہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور وہ کسی بھی طرح پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنے، بالخصوص اسلام آباد کی مرضی کے مطابق شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کے پابند نہیں۔

اتوار کو رات گئے ٹویٹ میں ایک ساتھی سیاستدان کے تبصرے سے اتفاق کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ذبیح اللّٰہ مجاہد کے تبصروں کا مطلب ہے کہ دوحا معاہدے نے طالبان کو تمام نہیں، صرف کچھ شرپسندوں کو قابو کرنے کا پابند کیا ہے۔ انہوں نے ان تبصروں کو کابل کے بیان کی 'منصفانہ تشریح' قرار دیا۔


خواجہ آصف نے کہا کہ "افغانستان کے مؤقف سے قطع نظر، پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے عزم پر قائم ہے خواہ اس دہشت گردی کا ذریعہ کوئی بھی ہو۔ کابل اپنی سرحدی حدود کے اندر سے شرپسند عناصر کو لگام دینے کا ارادہ رکھتا ہے یا نہیں، اس سے فرق نہیں پڑتا۔"

2020ء میں افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے دوحا امن معاہدے میں کابل اس عزم کی تجدید کرتا ہے کہ وہ "بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں یا افراد کو بھرتی کرنے، تربیت دینے، فنڈز جمع کرنے (بشمول منشیات کی پیداوار یا تقسیم کے ذریعے)، افغانستان کو ٹرانزٹ کرنے یا اس کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سفری دستاویزات کا غلط استعمال کرنے، یا افغانستان میں دیگر امدادی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے تعاون یا اجازت نہ دے گا اور ان کی میزبانی نہیں کرے گا۔"

تاہم، گذشتہ ہفتے افغان سرحد کے قریب واقع پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں ایک بڑے دہشت گرد حملے میں نو پاکستانی سپاہیوں کی ہلاکت کے بعد سے پاکستانی اور افغان حکام کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے۔

حملے کے بعد خواجہ آصف اور پاکستانی فوج دونوں نے افغانستان میں شرپسندوں کے "محفوظ ٹھکانوں" کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا اور انہیں "قرار واقعی جواب" دینے کی دھمکی دی۔

افغانستان سے متصل، پاکستان کے جنوب مغربی اور شمال مغربی علاقوں میں شرپسندوں کی کارروائیوں میں اضافے کے دوران یہ بیانات سامنے آئے ہیں۔

پاکستانی طالبان یا ٹی ٹی پی نے جنگ بندی کے لیے گذشتہ سال نومبر میں اسلام آباد میں مرکزی حکومت کے ساتھ کئی ماہ پر محیط مگر ایک نازک معاہدہ کیا تھا جس کے ختم ہونے کے بعد سے حملوں میں بالخصوص اضافہ ہوا ہے۔ یہ شرپسند گروہ افغان طالبان سے الگ لیکن ان کا قریبی حلیف ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہمسایہ افغانستان میں ان کے ٹھکانے ہیں۔

اسلام آباد نے کہا کہ اس نے بار ہا افغان طالبان حکام کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا ہے لیکن کابل کی طرف سے اس پر کوئی خاص ایکشن نہیں لیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں