پاکستان اور یوکرین کا تجارت، سرمایہ کاری،تحفظِ خوراک سمیت باہمی تعاون بڑھانے پراتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان اور یوکرین نے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، تحفظ خوراک، دفاعی تعاون، ثقافتی تبادلوں اور عوام سے عوام کے رابطوں سمیت باہمی مفاد کے تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفاق کیا ہے۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے جمعرات کو اسلام آباد میں اپنے یوکرینی ہم منصب دمیترو کلیبا سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ یوکرین سے دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات استوار کرنا پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔

وزیرخارجہ نے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے یوکرین اور روس کے درمیان تنازع کے پرامن حل کی امید کا اظہار کیا اور اس جنگ میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مسائل بات چیت کے ذریعے حل ہونے چاہییں۔ انھوں نے کہا کہ ایک غیر مستحکم خطے میں ایک ملک کے طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ دیرینہ علاقائی تنازعات ہماری اجتماعی سلامتی کو کس طرح خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ یوکرین کے تنازع نے ترقی پذیر ممالک اور عالم جنوب کے لیے خاص طور پر ایندھن، خوراک اور کھاد کے حوالے سے مشکلات پیدا کی ہیں اور پاکستان بھی اس سے مستثنا نہیں ہے۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے یوکرین کے وزیر خارجہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور اہمیت کے حامل علاقائی اور کثیر جہت امور پر جامع بات چیت کی ہے، پاکستان کے یوکرین کے ساتھ دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں۔ان کی ایک طویل تاریخ ہے اور اس میں تجارت اور سرمایہ کاری، زرعی اور دفاعی تعاون، ثقافتی تبادلے اور عوام کے درمیان گہرے روابط شامل ہیں۔ ہم باہمی مفاد کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں، پائیدار تجارتی اور اقتصادی تعلقات کا قیام پاکستان کا ترجیحی شعبہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم باہمی طور پر فائدہ مند تعلقات استوار کرنے کی خواہش رکھتے ہیں جو ہماری قوموں کی خوش حالی اور بہبود میں معاون ہوں۔آج کی ملاقات میں ہم نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے باقاعدہ بات چیت اور روابط کی اہمیت پر اتفاق کیا، ہم نے مقررہ وقت میں مختلف ادارہ جاتی میکانزم کے اجلاس منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، ہم اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بات چیت کو آگے بڑھائیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے یوکرین کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اورمیں نے یوکرینی وزیر خارجہ سے ان کے ملک کی موجودہ صورت حال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا اور قیمتی جانوں کے ضیاع اور بے پناہ انسانی مصائب پر تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز کے باوجود ہم نے یوکرین کے لوگوں سے اظہار یک جہتی کے لیے انسانی امداد بھیجی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ طویل تنازع شہری آبادیوں کے لیے بے پایاں مشکلات اور مصائب کا باعث بنتا ہے۔ہمیں امید ہے کہ امن قائم ہو گا تاکہ یوکرین اور روس کے لوگ امن کے ثمرات حاصل کرسکیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں نے ملاقات میں تنازعات کے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا اور امن اقدامات کی حمایت کے لیے پاکستان کے کردار کا اظہار کیا۔انھوں نے کہا کہ ہم مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازع کے پرامن حل کی امید رکھتے ہیں۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے 12 جولائی کو جنیوا میں انسانی حقوق کی کونسل میں امتیازی سلوک، تشدد کے لیے اکسانے والی مذہبی منافرت کے خلاف قرارداد کی حمایت پر یوکرین کی حکومت کے اصولی موقف کی تعریف کی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان یوکرین کے ساتھ دو طرفہ تعلقات بڑھانے کا خواہاں ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر یوکرین کے وزیرخارجہ دمیترو کلیبا نے کہا کہ پاکستان اور یوکرین کے درمیان 30 سال سے تعلقات قائم ہیں، ہم تجارت اور تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں یوکرینی اشیاء کی رسائی کو آسان بنایا جائے، ہم اپنی سلامتی اور خودمختاری کی حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بڑھانا چاہتے ہیں۔ہم پاکستانی طلبہ کو تعلیمی سہولت کے علاوہ پاکستان کو اسٹیٹ سروسز کو ڈیجیٹل بنانے میں معاونت کرسکتے ہیں۔

یوکرینی وزیرخارجہ نے کہا کہ جنگ کے نتیجے میں دنیا میں خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔اس موقع پر وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر اور سیکرٹری خارجہ ڈاکٹر اسد مجید خان بھی موجود تھے۔

اس سے پہلے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے یوکرین کے وزیر خارجہ دمیترو کلیبا نے جمعرات کو ملاقات کی۔دفتر خارجہ کے مطابق یوکرین کے وزیر خارجہ کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔

یوکرینی وزیر خارجہ دمترو کلیبا اور پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری۔ [تصاویر دفتر خارجہ پاکستان]
یوکرینی وزیر خارجہ دمترو کلیبا اور پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری۔ [تصاویر دفتر خارجہ پاکستان]

اس موقع پر یوکرین کے وزیر خارجہ نے وزارت خارجہ کے احاطے میں دوستی کاایک پودا بھی لگایا، وزیر خارجہ بلاول بھٹو بھی اس موقع پر ان کے ہمراہ تھے۔

یوکرینی وزیر خارجہ دیمترو کالیبا اور پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری۔ [تصاویر دفتر خارجہ پاکستان]
یوکرینی وزیر خارجہ دیمترو کالیبا اور پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری۔ [تصاویر دفتر خارجہ پاکستان]

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں