چینی سفارتخانے کی گوادر میں اپنے شہریوں پر دہشت گرد حملے کی مذمت، تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان میں چینی سفاتخانہ نے کہا ہے کہ اتوار 13 اگست کو بلوچستان کے علاقے گوادر کی بندرگاہ کے قریب چینی شہریوں کو لے جانے والے قافلے پر حملہ کیا گیا، اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور متعلقہ اہلکاروں کو مناسب طریقے سے حفاظت میں رکھا گیا ہے، چینی سفارتخانہ دہشت گردی کی اس کارروائی کی شدید مذمت کرتا ہے۔

کراچی میں سفارت خانے اور قونصلیٹ جنرل نے فوری طور پر ہنگامی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے حملے کی مکمل تحقیقات کرنے، قصور واروں کو سخت سے سخت سزا دینے، ایسے واقعات کو دوبارہ رونما ہونے سے روکنے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کرنے کی درخواست کی۔ چین دہشت گردی کے خطرات سے مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے اور پاکستان میں چینی اہلکاروں، اداروں اور منصوبوں کی حفاظت کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔

موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر، چینی سفارتخانہ نے پاکستان میں چینی شہریوں کو یاد دلایا ہے کہ وہ چوکس رہیں اور حفاظتی خطرات کے خلاف احتیاطی تدابیر اختیار کریں، تاکہ ان کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

دریں اثنا بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ’گوادر میں چینی انجینیئروں کے ایک قافلے کو بلوچ لبریشن آرمی کی مجید بریگیڈ نے نشانہ بنایا۔‘

ادھر اتوار کے روزفوج کے محکمہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق گوادر میں پاک فوج کے قافلے پر حملہ آور دو دہشت گردوں کو جہنم واصل کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔ دہشت گردوں نے بلوچستان کے ضلع گوادر میں فوجی قافلے پر حملہ کیا۔

دہشت گردوں نے کارروائی کے دوران چھوٹے ہتھیاروں اور دستی بموں کا استعمال کیا تاہم موثر اور فوری جواب کے باعث دو دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ اس کارروائی میں فوجی یا سول افراد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک میں امن اور خوشحالی کے دشمنوں کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں