درآمدی پابندیوں میں نرمی کی وجہ سے پاکستانی روپیہ ریکارڈ کم ترین سطح پر آگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

درآمدی پابندیوں میں نرمی سے ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث منگل کو انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپیہ ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گیا۔

پاکستان نے اپنے سکڑتے ہوئے غیر ملکی ذخائر سے اخراج کو روکنے کے لیے 2022 سے درآمدات پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ بحران زدہ معیشت کی مدد کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے 3 بلین ڈالر کے قرض پروگرام کی شرط تھی کہ جون میں شروع ہونے والی یہ پابندیاں ختم کی جائیں۔

تاجروں نے کہا کہ روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 0.6 فیصد گر کر 299 کی انٹرا ڈے کم ترین سطح پر آگیا۔ 11 مئی کو 298.93 کی ریکارڈ کم سطح پر بند ہوا۔ اراضی کی بدعنوانی کے الزام میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے دو دن بعد ایسا ہوا جس سے ملک کا سیاسی بحران مزید گہرا ہو گیا۔

پاکستان میں اس وقت ایک نگران حکومت کا دور جاری ہے جسے قومی انتخابات کے ذریعے ملک کو مشکل حالات سے نکالنے کا کام سونپا گیا ہے جو نظریاتی طور پر نومبر تک ہو جانے چاہئیں جبکہ ملک اس وقت سیاسی تناؤ کے ساتھ ساتھ تاریخی طور پر بلند افراطِ زر اور شرحِ سود سے بھی نبردآزما ہے۔

کراچی کی ایک بروکریج کمپنی عارف حبیب کے ریسرچ کے سربراہ طاہر عباس نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ فی الحال روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 295 اور 305 کے درمیان ٹریڈ کرے گا۔

انہوں نے کہا، "روپے کے گرتے ہوئے رجحان کی وجہ بنیادی طور پر درآمدی پابندیوں میں نرمی کے ساتھ ساتھ سامان اور خدمات کے بیک لاگ کو ختم کرنا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ ملٹی نیشنل کارپوریشنز کچھ منافع ملک میں واپس لانے میں کامیاب ہوئیں جس سے روپے کے اخراج میں اضافہ ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں