پاک فوج نے بٹگرام میں چیئر لفٹ سے تمام آٹھ افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا
چیئر لفٹ کی کیبل ٹوٹنے سے 600 فٹ کی بلندی پر چھ بچوں سمیت آٹھ افراد پھنس گئے تھے
پاکستان کے نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ بٹگرام چیئر لفٹ میں پھنسے تمام افراد کو بچا لیا گیا جس کے بعد ریسکیو آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔
نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ریسکیو آپریشن کے مکمل ہونے کا اعلان کیا ہے۔
سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ’اللہ کا شکر ہے کہ بٹگرام میں ریسکیو کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔‘ انہوں نے لکھا کہ ’اس مشکل آپریشن کو عزم اور جان کی پروا کیے بغیر مکمل کرنے پر مسلح افواج کے اہلکار تعریف کے لائق ہیں۔‘
Thankful to Allah that the rescue process at Battagram has successfully concluded. All appreciation for our valiant armed forces personnel, administration & locals for their selflessness and determination in carrying out this complex operation.
— Senator Sarfraz Bugti (@PakSarfrazbugti) August 22, 2023
صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع الائی میں پاشتو کے مقام پر منگل کی صبح تار ٹوٹنے سے چیئر لفٹ میں چھ بچوں سمیت آٹھ افراد پھنس گئے تھے۔
اس سے قبل پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا تھا کہ بٹگرام چیئر لفٹ میں پھنسے افراد میں سے پانچ بچوں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے جبکہ بقیہ افراد کو ریسکیو کرنے کے لیے پاکستان آرمی کا آپریشن اندھیرے میں بھی جاری رہا۔
واضح رہے الائی میں کیبل کار کی رسی ٹوٹنے کا واقعہ صبح سات سے آٹھ بجے کے درمیان پیش آیا جب مقامی زبان میں ڈولی کہے جانے والی کیبل کار کے ذریعے طلبہ اسکول جارہے تھے، اس دوران دو رسیاں ٹوٹنے سے کیبل کار فضا میں کئی فٹ بلندی پر پھنس گئی۔
The moment when the first child was rescued by the Pakistan Armed Forces. The child can be seen wearing a harness and then being led to safety via the helicopter.#PakistanArmy #PakAirForce #PAF@OfficialDGISPR #Battagram #ISPR pic.twitter.com/p1xdl8mGQN
— Pakistan Armed Forces News 🇵🇰 (@PakistanFauj) August 22, 2023
اس حوالے سے واضح نہیں ہے کہ یہ کتنی بلندی پر پھنسی ہوئی ہے البتہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) کے مطابق یہ کیبل کار ایک ہزار سے 2 ہزار فٹ کی بلندی پر پھنسی ہوئی ہے۔
کیبل کار جھانگری ندی کے اوپر محض ایک تار کے سہارے ہوا میں معلق ہے، اطراف میں بلند و بالا پہاڑ اور پتھریلی زمین ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک آرمی نے ریسکیو آپریشن میں مزید تین بچوں کو ریسکیو کر لیا ہے اور اب تک مجموعی طور پر 5 بچے ریسکیو کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جی او سی ایس ایس جی خود اِس ریسکیو آپریشن کی قیادت کر رہے ہیں اور باقی افراد کو ریسکیو کرنے کے لیے پاک فوج کا آپریشن جاری ہے۔
اس سے قبل خبر ایجنسی رائٹرز کو ریسکیو ایجنسی کے ترجمان اور مقامی عہدیداروں نے تصدیق کی تھی کہ مقامی طور پر ڈولی کہی جانے والی کیبل کار میں پھنسے دو بچوں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔
ادھر ڈی آئی جی ہزارہ طاہر ایوب نے بھی دو بچوں کو ریسکیو کرنے کی تصدیق کی تھی۔
Relieved to know that Alhamdolillah all the kids have been successfully and safely rescued. Great team work by the military, rescue departments, district administration as well as the local people. 🇵🇰 https://t.co/2gPq2Q51Xi
— Anwaar ul Haq Kakar (@anwaar_kakar) August 22, 2023
پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق اندھیرے اور موسمی حالات کے سبب فضائی آپریشن بندکردیا گیا ہے تاہم دیگر طریقوں سے ریسکیو کی کوششیں جاری ہیں۔
پاکستان کی وزارت داخلہ نے اپنے ایکس [سابقہ ٹوئٹر] اکائونٹ پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی کی بٹگرام چیئر لفٹ میں پھنسے بچوں اور اساتذہ کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت وزیر اعظم کی ہدایت پر پاک فوج کو ریسکیو آپریشن میں شامل ہونے کی درخواست ریسکیو آپریشن میں تمام وسائل برائے کار لائے جائیں۔
نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی کی بٹگرام چیئر لفٹ میں پھنسے بچوں اور اساتذہ کو بچانے کیلئے ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت
— Ministry of Interior GoP (Official) (@MOIofficialGoP) August 22, 2023
وزیر اعظم کی ہدایت پر پاک فوج کو ریسکیو آپریشن میں شامل ہونے کی درخواست
ریسکیو آپریشن میں تمام وسائل برائے کار لائے جائیں@PakSarfrazbugti
دوسری جانب پاک فوج نے بٹگرام چیئر لفٹ میں پھنسے ہوئے افراد کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا اور اس سلسلے میں ہیلی کاپٹر پہنچ گیا ہے۔
ہیلی کاپٹر سلنگ آپریشن کے لیے ریکی کرے گا کیوں کہ چیئر لفٹ کی تین میں سے دو تاریں ٹوٹ چکی ہیں اور ہیلی کاپٹر سے پیدا ہونے والے ہوائی پریشر سے اکیلی بچ جانے والی تار بھی ٹوٹ سکتی ہے، اس لیے ہیلی کاپٹر سے ریسکیو آپریشن کو انتہائی محتاط انداز میں کیے جانے کی کوشش کی جائے گی۔