مہنگائی، بجلی کے زائد بلوں کے خلاف ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

جماعت اسلامی اور آل پاکستان انجمن تاجران کی کال پر آج ملک بھر میں بجلی کے زائد بلوں، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی۔

اس کے دوران ملک کے کم وبیش تمام شہروں کی مارکیٹوں میں دکانیں اور کاروبار بند رکھے گئے جبکہ احتجاجی مظاہرے بھی ہوتے رہے ہیں۔

ملک کے کئی شہروں میں گذشتہ کئی دن سے بجلی کے بلوں میں اضافے پر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں 31 اگست کو بھی اسلام آباد میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی تھی جبکہ بڑے شہروں میں بھی اس کی حمایت کا اعلان کیا گیا تھا۔

تاجروں کی جانب سے پاکستان بھر میں بجلی کے بلوں اور مہنگائی کے خلاف ہڑتال کےاعلان کے بعد لاہور کے ایک بازار کا منظر۔ [اے ایف پی]
تاجروں کی جانب سے پاکستان بھر میں بجلی کے بلوں اور مہنگائی کے خلاف ہڑتال کےاعلان کے بعد لاہور کے ایک بازار کا منظر۔ [اے ایف پی]

عوام نگران حکومت کی جانب سے کسی ریلیف ملنے کے منتظر ہیں، اس حوالے سے گذشتہ دنوں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کابینہ اجلاس بھی طلب کیا تھا جبکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر کو طلب کرکے بریفنگ مانگی تھی، جنہوں نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ مالی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو سبسڈی نہیں دی جا سکتی، تاہم بعد ازاں اس حوالے سے بھی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ نگران حکومت نے ریلیف دینے کا معاملہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے سامنے رکھا ہے۔

دوسری جانب نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کہ چکے ہیں کہ بجلی کے بلوں کے حوالے سے مختلف آپشنز پر بات ہو رہی ہے جن کے نتائج جلد سامنے آ جائیں گے۔

ملک گیر ہڑتال کے سلسلے میں پنجاب کے دارالحکومت میں لبرٹی مارکیٹ، شاہ عالم مارکیٹ، اردو بازار، ٹاؤن شپ مارکیٹ، جوہر ٹاؤن مارکیٹ سمیت تمام بازاروں میں بیشتر دکانیں اور شاپنگ سینٹرز بند ہیں۔

اس کے علاوہ پنجاب کے کئی شہروں گجرانوالہ، گجرات، فیصل آباد، منڈی بہاؤالدین،ساہیوال، ملتان، مظفر گڑھ، بہاولپور، ڈیری غازی خان، لیہ، کروڑ لعل عیسن، بہاولنگر، راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں بیشتر تاجروں نے ہڑتال کر رکھی ہے۔

کراچی تاجر ایکشن کمیٹی نے نگران حکومت کو زائد بجلی کے بلوں میں کمی اور اضافہ شدہ پیٹرولیم لیوی واپس لینے کے لیے 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیدیا ہے، یہ الٹی میٹم کراچی تاجر ایکشن کمیٹی کے کنوینر محمد رضوان نے جمعے کی شام پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔

کراچی کے تاجروں کی جانب سے بجلی کے اضافی بلوں، مہنگائی کے خلاف جمعہ کو بھی شٹرڈاؤن ہڑتال کے باعث شہر کی تھوک اور بڑی مارکیٹیں بند رہیں تاہم محلوں کی سطح پر چھوٹی دکانیں کھلی رہیں۔

کراچی میں گذشتہ روز بھی بجلی کے بلوں میں اضافوں کے خلاف تاجروں کی طرف سے مکمل ہڑتال کی گئی، جس کے نتیجے میں تمام ہول سیل مارکیٹیں اور بڑے بازار مکمل طور پر بند رہے۔

دریں اثنا امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک میں بجلی کا بل ہے یا موت کا پروانہ ہے، ہمیں حکمرانوں نے آئی ایم ایف کے ہاتھوں فروخت کیا ہے، ایک گھر کا بل 40 ہزار آیا جس میں ہزاروں روپے ٹیکس لگا ہے، ہمارے بچے رات کو بھوکے سوئیں، ظلم کا یہ نظام اب نہیں چلے گا۔

مال روڈ مسجد شہدا پر احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے مزید کہا کہ یہ بجلی کا بل ہے یا موت کا پروانہ ہے، یہ بجلی کا بل ہے یا عالمی دہشت گردی ہے ، ہم اس بدمعاشی کو اس عالمی دہشت گردی کو نہیں مانتے۔بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو واپس لینا پڑے گا۔نگراں وزیراعظم انوار الحق کہتے ہیں کہ مہنگائی زیادہ نہیں ہے، یہ پاکستان کا وزیراعظم ہے یا آئی ایم ایف کا وزیراعظم ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بجلی ، پیٹرول میں اضافے کے یہ سب فیصلے پی ڈی ایم کے ہیں۔ یہ آئی ایم ایف کی غلامی ہے، مگر عوام ان کی غلامی نہیں کریں گے۔ یہ کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لیا ہے، جن لوگوں نے قرضہ لیا ہے ان کے اکاؤنٹس موجود ہیں، ان سے وصول کیا جائے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ عوام کے ساتھ حکومت دھوکا کررہی ہے، حکومت کہتی ہے کہ آئی پی پیز باہر کی کمپنیاں نہیں ہیں، آئی پی پیز سے مسلم لیگ ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی نے معاہدہ کیا، انہوں نے عوام پر ظلم کیا۔

امیر جماعت کا کہنا تھا کہ آج بارہ بجے تک حکومت نے قیمتوں میں اضافہ واپس نہ لیا تو اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ سیاست، رنگ اور نسل سے بالاتر ہوکر اللہ کو حاضر ناظر کرکے آپ کی خاطر جینے اور مرنے کا اعلان کرتا ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں