پاکستان کی سرحد پرمسلح افراد سے جھڑپ میں دو ایرانی پولیس اہلکار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے جنوب مشرقی علاقے میں پاکستان کی سرحد سے متصل علاقے میں سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں کم سے کم دو اہلکار جاں بحق ہوگئے۔

میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کی شام شدت پسندوں کی تازہ کارروائیوں میں ایران کے سرحدی صوبہ سیستان بلوچستان میں ایک دور افتادہ گاؤں میں مسلح افراد کی فائرنگ سے دو اہلکار جاں بحق ہوگئے۔

ایران کی سرکاری ’ارنا‘ نیوز ایجنسی نے بدھ کی رات اطلاع دی کہ یہ حملہ پاکستان کی سرحد کے قریب ایک دور دراز علاقے میں ہوا۔

ایجنسی نے اپنے عربی ورژن میں کہا کہ "اندرونی سکیورٹی فورسز کے دو کیڈر تفتان شہر میں دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بننے کے بعد شہید ہو گئے۔"

حملہ آوروں کی شناخت یا حملے کے حالات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکے۔

افغانستان کی سرحد سے متصل یہ صوبہ بدامنی کا شکار رہا ہے۔ یہ جھڑپیں عام طور پر منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے گروہوں، بلوچ اقلیت کے حامی باغیوں یا شدت پسندوں کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔

اس سے قبل بھی ایسے ہی حملے ہوئے تھے، جن میں سے ایک 23 جولائی کو ہوا تھا، جب گشت پر مامور چار پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔

دو ہفتے پیشتر اسی صوبے میں ہونے والی ایسی ہی ایک کارروائی میں چار ایرانی پولیس اہلکار جان سے گئے تھے۔ اس کارروائی کی ذمہ داری عسکریت پسند تنظیم ’جیش العدل‘ نے قبول کی تھی۔

مئی کے آخر میں خبر رساں ادارے ’ارنا‘ نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ طالبان فورسز نے سیستان- بلوچستان میں تعینات ایک ایرانی پولیس اہلکار کو گولی مار دی تھی۔

صوبائی دارالحکومت زاہدان میں پچھلے سال ستمبر میں بڑے پیمانے پر اس وقت احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے جب مقامی شہریوں نے پولیس اہلکاروں پر ایک کم عمر لڑکی کے مبینہ ریپ کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں