بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی سے سبی جاتے ہوئے اغوا کر لیے جانے والے چھ مقامی فٹ بالرز کو ابھی تک بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ہفتہ کے دن سولہ کھلاڑی ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ڈیرہ بگٹی سے ٹرائل دے کر آل پاکستان چیف منسٹر گولڈ کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں حصہ لینے کے لیے سبی جا رہے تھے کہ انہیں اغوا کر لیا گیا تھا۔
ادھر بلوچ لبریشن ٹائیگرز ( بی ایل ٹی) نے ان کھلاڑیوں کے اغوا کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان افراد کو اس لیے اغوا نہیں کیا گیا کہ یہ فٹ بال کے کھلاڑی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اغوا کار گاڑی میں سوار سولہ میں سے چھ کھلاڑیوں کو شناخت کرنے کے بعد اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ مغوی کھلاڑیوں کا تعلق ڈیرہ بگٹی اور سوئی سے ہے۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ اغوا کی یہ واردات برہمداغ اور سرفراز بگٹی کی جماعتوں کے مابین لڑائی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔
اغوا کیے گئے یہ چھ کھلاڑی ماضی براہمداغ بگٹی کی علاحدگی پسند تنظیم بلوچ ریپبلیکن پارٹی (بی آر پی) سسے وابستہ تھے۔ کچھ عرصہ قبل ہی ان نوجوانوں نے بی آر پی سے علاحدگی اختیار کرتے ہوئے ریاستی اداروں کے سامنے ہتھیار پھینک دیے تھے۔
نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو اغوا کرنے والے دہشت گرد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو بازیاب کروانے کے لیے فرنٹئیر کور بلوچستان نے علاقے کی ناکہ بندی بھی کی ہے اور آپریشن بھی کر رہی ہے۔