پاکستانی عازمین حج 2024 کے لیے 'گذشتہ سالوں کی طرح' سفر کریں گے،: وزیر

کوئی زمینی یا سمندری راستے طے نہیں کیے گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے نگراں وزیرِ مذہب انیق احمد نے کہا ہے کہ پاکستانی عازمین "پچھلے سالوں کی طرح" ہی اگلے سال حج پر جائیں گے اور ان کی حکومت سستے حج کے لیے کسی زمینی یا سمندری راستے پر غور نہیں کر رہی۔

حج اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے اور مالی استطاعت کی صورت میں تمام مسلمانوں کو اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار یہ فریضہ ادا کرنا چاہیے۔ حج سعودی عرب کے مغرب میں مکہ مکرمہ اور اس کے گردونواح میں چار دنوں میں مکمل ہونے والی رسومات کے ایک سلسلے پر مشتمل ہوتا ہے۔

پاکستان کو اگلے سال حج کے لیے پہلے ہی 179,210 عازمین کا کوٹہ مل چکا ہے جب کہ پہلے یہ اطلاعات تھیں کہ جنوبی ایشیائی ملک حجاج کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے سالانہ حج کے ممکنہ زمینی اور سمندری راستوں پر غور کر رہا تھا۔ مقامی کرنسی کی قدر میں کمی اور ملک میں بہت زیادہ مہنگائی اس کی وجہ ہے۔

پیر کو عرب نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں وزیرِ مذہب نے پاکستان کے زمینی اور سمندری راستے سے سستے حج سفر کی تلاش کی خبروں کی تردید کی۔

احمد نے عرب نیوز کو بتایا۔ "بالکل نہیں. ہم گذشتہ سالوں کی طرح سفر کریں گے۔ فضائی راستہ واحد راستہ ہے اور اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔"

وزیر نے کہا کہ ان کی حکومت نئی حج پالیسی بنانے کے ابتدائی مراحل میں ہے اور آئندہ سال حج کے لیے جلد ہی درخواستیں طلب کرنے کا منصوبہ ہے۔

اقساط میں مطلوبہ عازمین کی طرف سے واجبات کی ادائیگی کے بارے میں ایک مبینہ تجویز کے بارے میں سوال پر احمد نے کہا کہ یہ حکومت کے منصوبوں کا حصہ نہیں ہے۔

سعودی عرب نے رواں سال جنوری میں 65 سال عمر کی بالائی حد ختم کردی تھی۔ اس سال 81,000 سے زائد پاکستانی عازمین نے سرکاری سکیم کے تحت حج کی سعادت حاصل کی جبکہ باقی حجاج کو پرائیویٹ ٹور آپریٹرز نے سہولت فراہم کی۔

پاکستان نے پرائیویٹ حج آپریٹرز کے خلاف شکایات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اصلاحاتی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ یہ پیشرفت پیر کو نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ کے زیرِ صدارت حج 2024 کی پیشگی تیاریوں سے متعلق اجلاس کے بعد سامنے آئی۔

گذشتہ ہفتے پاکستان کی وزارتِ مذہبی امور نے نجی حج آپریٹرز سے بھی کہا تھا کہ وہ حج آپریشنز کو بہتر بنانے اور ہر کمپنی کے لیے حجاج کی تعداد میں کمی کے حوالے سے نئی سعودی ہدایات پر عمل درآمد کے لیے تجاویز فراہم کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں