ازخود نوٹس کا اختیار چھوڑنے کے لیے تیار ہوں: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کی کارروائی ٹی وی پر براہ راست نشر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے گذشتہ روز تشکیل کردہ فل کورٹ بینچ ’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023‘ کے خلاف دائر نو درخواستوں پر سماعت کر رہا ہے، ملکی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ کی کارروائی براہ راست نشر کی جا رہی ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ بینچ جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل ہے۔

سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر 13 اپریل کو عملدرآمد روکا تھا۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ مفاد عامہ کے مقدمات میں چیف جسٹس کے اختیارات کو تقسیم کرنے سے متعلق ہے۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے مطابق از خود نوٹس لینے کا فیصلہ چیف جسٹس اور دو سینئیر پر مشتمل کمیٹی کر سکے گی۔

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف اپنا تحریری جواب اٹاری جنرل کے ذریعے عدالت میں جمع کرایا ہے جس میں وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستیں مسترد کرنےکی استدعا کی ہے۔

پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر فل کورٹ سماعت کر رہی ہے: سکرین گریب پی ٹی وی
پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر فل کورٹ سماعت کر رہی ہے: سکرین گریب پی ٹی وی

مقدمے کی سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس بارے میں نو درخواستیں ہیں کہا کہ پاکستان بار کونسل درخواست کو مدنظر رکھتے ہوئے فل کورٹ تشکیل دیا گیا۔ دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ نو درخواستیں ہیں اور وکلا کون کون ہیں؟ خواجہ طارق رحیم صاحب آپ دلائل کا آغاز کریں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا دلائل دوبارہ سے شروع ہوں گے کیونکہ نیا بینچ تشکیل دیا گیا ہے، فل کورٹ بنانے کی تین درخواستیں تھیں جن کو منظور کر رہے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے ریمارکس میں کہا فل کورٹ اجلاس میں فل کورٹ سماعت کرنے کی منظوری دی گئی، عوام ہم سے 57 ہزار کیسز کا فیصلہ چاہتے ہیں۔

‘سماعت شروع ہوئی تو ایک موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وہ اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ ’میں فیصلوں کا نہیں آئین کا تابع ہوں، سپریم کورٹ میں 57 ہزار کیسز التوا کا شکار ہیں، پارلیمنٹ اگر بہتری لانا چاہ رہی ہے تو اسے سمجھ کیوں نہیں رہے؟ اگر یہ برا قانون ہے تو آئین کے مطابق جواب دیں۔

اس پر درخواست گزار کے وکیل امتیاز صدیقی نے جواب دیا کہ مجھے سانس لینے کی مہلت دیں، سب سوالات کے جوابات دوں گا۔

چیف جسٹس نے ایک موقع پر استفسار کیا کہ رولز کو چھوڑیں آئین کی بات کریں۔ ’کیا آپ چیف جسٹس کو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں بنانا چاہتے؟ ہم اس قانون سے بھی پہلے اوپر والے کو جواب دہ ہیں، مجھے بطور چیف جسٹس آپ زیادہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں، میں تو پھر آپ کی درخواست 10 سال نہ لگاؤں تو آپ کیا کریں گے۔‘

حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیے۔ اٹارنی جنرل کا اپنے دلائل میں کہنا تھا، ’اس قانون کا صرف ایک ہی مطلب ہوسکتا ہے۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ’لا‘ کی تعریف میں آتا ہے۔ 1980 میں یہ رولز بنائے گئے تھے، میں آپ کی توجہ آرڈر 11 کی جانب مبذول کرانا چاہوں گا۔‘

چیف نے استفسار کیا کہ یہ رولز کس نے کب بنائے؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 1980 میں سپریم کورٹ نے بنائے۔

چیف نے استفسار کیا سپریم کورٹ کیا ہوتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا سب چیف جسٹس اور ججز۔۔۔۔ چیف نے بات کاٹتے ہوئے استفسار کیا ’گھر بیٹھے ہوئے۔‘

چیف جسٹس نے وکلا کو فوکس کرنے کی تنبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ٹیکس دہندہ ہمیں تنخواہ اس لیے دیتا ہے کہ ہم اس کا فیصلہ کریں اور یہی ہمارا کام ہے۔ آپ بھی مین پوائنٹ پر نہیں آ رہی کھسک رہے ہیں اور وہ بھی مین پوائنٹ پر نہیں آ رہے۔‘

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’میں ایک غلطی کی ہے میں نے آپ کو اس کورٹ کی کوہ ہمالیہ جتنی بڑی غلطی ’دی ریکوڈک کیس‘ کی مثال دی ہے 6.5 ارب ڈالر کیا یہ کافی بڑی غلطی نہیں سمجھنے کے لیے۔‘

قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ اس قانون سازی سے متاثرہ فریق کون ہو گا؟ اس ایکٹ سے کا نقصان ہو رہا ہے؟ کیا اس قانون سے جرح یا انصاف کا حق لیا گیا؟ چیف جسٹس نے کہا کہ اس ایکٹ سے چیف جسٹس آف پاکستان کے اختیارات کی تقسیم ہوئی ہے۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ ریکوڈک کیس میں ملک کو 615 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، ایسے اختیارات آپ مجھے دینا بھی چاہیں نہیں لوں گا، آپ ابھی جواب نہیں دینا چاہتے تو ہم اگلے وکیل کو سن لیتے ہیں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے منصب سنبھالنے کے فوراً بعد اتوار کو اس معاملے کی سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا یعنی عدالت عظمٰی کے تمام 15 جج اس کیس کی سماعت کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان کے عہدے کا حلف لیا تھا اور حلف لینے کے بعد پہلا مقدمہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کے لیے مقرر کیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رواں برس اپریل میں کسی بھی آئینی مقدمے کے بینچ کا حصہ بننے سے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا جب تک سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ نہیں ہوتا وہ کسی بینچ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

سپریم کورٹ کے 15 رکنی فل کورٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی سماعت براہ راست نشر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی بغیر پروٹوکول کے سپریم کورٹ پہنچے تو عدالت عظمیٰ کے اسٹاف نے ان کا بھرپور استقبال کیا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے انہیں گلدستہ پیش کیا۔

پولیس نے چیف جسٹس کو پہلے دن سپریم کورٹ آمد پر گارڈ آف آنر پیش کرنا تھا لیکن چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے گارڈ آف آنر لینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کے اسٹاف سے گفتگو میں کہا کہ عدالت میں لوگ خوشی سے نہیں آتے مسائل ختم کروانے کے لیے آتے ہیں، سائلین سے ایسا سلوک کیجیے جیسے میزبان مہمان سے کرتا ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ آپ لوگوں کا شکریہ، آپ کا بہت سا تعاون چاہیے۔ آج میٹنگز اور فل کورٹ ہے، آپ لوگوں سے تفصیلی ملاقات ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے دروازے کھلے اور ہموار رکھیں، آنے والے لوگوں کی مدد کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں