اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ہماری کوئی سوچ نہیں،پاکستان کا واضح مؤقف مستقل ہے: وزیرخارجہ

پاکستان کسی ملک کی تقلید میں نہیں، بلکہ قومی مفاد میں فیصلہ کرے گا، ہمارے لیے کشمیر اور فلسطین کے تنازعات یکساں ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بارے میں کوئی سوچ نہیں پائی جاتی ہے۔صہیونی ریاست کے بارے میں پاکستان کا مؤقف مستقل ہے ،تنازع فلسطین کے بارے میں پاکستان کا مؤقف آج بھی وہی ہے جو کل تھا اور وہ یہ کہ فلسطینیوں کو حق خودارادیت ملنا چاہیے۔

نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر متعدد کانفرنسوں میں شرکت کی ہے،مختلف کانفرنسوں سے خطاب کیا۔ انھوں نے ایران اور ازبکستان کے صدور اور چین کے نائب صدر سے دوطرفہ ملاقاتیں کی ہیں۔ وہاں انھوں نے بل گیٹس سمیت مختلف رہ نماؤں کے ساتھ بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ نگران وزیر اعظم نے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پراسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر سمیت مختلف اجلاسوں میں شرکت کی۔او آئی سی کے رابطہ گروپ برائے کشمیر نے واضح الفاظ میں کشمیری بھائیوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ رابطہ گروپ کے اجلاس میں بھارتی افواج کی کشمیریوں کے خلاف جارحیت کی مذمت کی گئی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل پر زوردیا گیا۔اس کے علاوہ وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے حوالے سے کانفرنس میں بھی شرکت کی۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بارے میں امریکا میں بھی سوالات ہوئے تھے، پاکستان اس حوالے سے ہر فیصلہ قومی مفاد کو مد نظر رکھ کر کرے گا، پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بارے میں کوئی سوچ نہیں پائی جاتی ہے۔ ہمارا دیرینہ مؤقف ہے کہ فلسطینیوں کو حقِ خود ارادیت ملنا چاہیے، مسئلہ فلسطین کا دیرپا حل ایک آزاد ریاست کے قیام میں مضمر ہے اور القدس کو آزاد فلسطین ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔

انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اسرائیل کے بارے میں پاکستان کا مؤقف مستقل ہے ،اسرائیل اور فلسطین کے بارے میں پاکستان کی پوزیشن واضح ہے ہمارے لیے کشمیر اور فلسطین دونوں دیرینہ تنازعات ایک جیسے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے پاکستان کی تحریک پر 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن منایا۔پاکستان کبھی عالمی سطح پر تنہائی کا شکار نہیں ہوا بلکہ وہ ایک اہم جمہوری ملک ہے اور اقوام متحدہ کی متعدد اہم کمیٹیوں کا رکن ہے۔

جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ گذشتہ چند ہفتوں میں پاکستان میں رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات پر پوری دنیا کو شدید لاحق تشویش ہے۔افغانستان کے اندر سے پاکستان پر حملوں کو روکنا (طالبان کی)افغان عبوری حکومت کی ذمے داری ہے کیونکہ اس نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو کسی اور ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور ہم امید کرتے ہیں افغان عبوری حکومت اپنی اس بات کی پاس داری کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں