ڈالر مسلسل 21 ویں روز بھی سستا، قیمت 284.70 روپے ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غیر ملکی کرنسی مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد مسلسل 21 ویں روز ڈالر کی گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا، روپے کی قدر مزید مستحکم ہو گئی۔

امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں اضافے کا رجحان تقریباً ایک مہینے سے جاری ہے اور بدھ کی صبح انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت ایک روپے سے زائد کمی کے بعد 284.70 روپے پر آ گئی ہے۔

اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت تسلسل سے کم ہو رہی ہے اور ایک ڈالر کی قیمت میں بدھ کے روز 1.50 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد اس کی قیمت 284.50 روپے کی سطح تک گر گئی۔

پاکستان میں ڈالر کی قیمت چار ستمبر 2023 کو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی تھی جب انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت 307 روپے کی حد سے اوپر بند ہوئی تھی تو دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں اس کی قیمت 333 روپے کی سطح تک چلی گئی تھی۔

ملک کی ڈالر کی قیمت میں بے تحاشا اضافے کی وجہ اس کی سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کو قرار دیا گیا جس کے بعد وفاقی حکومت نے ڈالر کی سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا اور اس کے ساتھ ایکسچینج کمپنیوں کے قواعد و ضوابط میں بھی سختی کی۔

ان اقدامات کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی کا رجحان دیکھا گیا اور ایک مہینے میں انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت میں 22.40 روپے کی کمی ریکارڈ کی جا چکی ہے۔

اسی طرح اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت ایک مہینے میں 48 روپے کم ہو چکی ہے۔

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ڈالر کی انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ قیمت میں لگ بھگ ساڑھے چار روپے سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں