سال 2023 میں بیرون ملک بھیجنے جانے والے پاکستانیوں کا 90 فیصد ہدف مکمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سال 2023 میں پاکستانی افرادی قوت کی ایک ریکارڈ تعداد بیرون ملک کام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

وفاقی بیورو آف امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل اکرم خواجہ کے مطابق 2023 میں نو لاکھ پاکستانیوں کو بیرون ملک روزگار فراہم کرنے کا 90 فیصد ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔ حالیہ برسوں کے اعداد وشمار کے مطابق افرادی قوت کی غیر ممالک میں ملازمت کے لیے جانے والے افراد کی یہ تعداد کسی ایک سال کی بلند ترین سطح میں شامل ہے۔

دی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز صحافیوں کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے اکرم خواجہ نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا ملکی ترقی میں اہم کردار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بافرادی قوت کو روزگار کی انشورنس فراہم کرنے کے لیے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس سال سب سے زیادہ پاکستانی ملازمتوں کے حصول کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات گئے ہیں اور ان کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ بحرین، عراق، ملائیشیا، عمان، قطر اور ترکی میں بھی پاکستانی افرادی قوت کی ایک بڑی تعداد ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ تقریباً گیارہ ملین پاکستانیوں کام کے لیے بیرون ملک جا چکے ہیں۔ ان میں سے ذیادہ تعداد خلیجی ممالک میں روزگار کے حصول میں مصروف ہیں۔ ان کی طرف سے وطن واپس بھیجی جانے والی اربوں ڈالر کی ترسیلات زر ہر سال ملکی معیشت میں کو مضبوط بنانے کا باعث بنتی ہیں۔

پاکستان دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، اور تقریباً 65 ملین کام کرنے کے قابل جوان افراد کے ساتھ نویں سب سے بڑی لیبر فورس رکھتا ہے۔ بیرون ملک روزگار کے مواقع ملکی ترقی کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستان کی آبادی کے اشاریے بشمول نوجوانوں کی غالب اکثریت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس افرادی قوت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

مشرق وسطیٰ کے بعد یورپ پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی منڈی بنتا جا رہا ہے۔ پاکستان بہترین ٹیلنٹ پیدا کر کے لاکھوں پاکستانیوں کو ہر سال روزگار کے بہتر مواقع فراہم کر سکتاہے۔ اسلام آباد میں جلد بیرون ملک جانے والی افرادی قوت کے معاملات کی دیکھ بھال کے لیے پروٹیکٹرآفس قائم کیا جائے گا۔

بیورو آف امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا پاکستانی ورکرز کی مختلف ممالک میں بہت مانگ ہے کیونکہ وہ بہت محنتی سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ لاکھوں پاکستانیوں کو بیرون ملک بہتر ملازمتوں کے مواقع ملیں۔

یہاں سے ڈاکٹرز، انجینئرز، منیجرز، پائلٹ اور اسی طرح کے دیگر افراد اچھے عہدوں پر نوکریاں حاصل کرسکیں تاکہ زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ پاکستان آئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور ان کی وزارت کی توجہ سمندر پار پاکستانیوں کے لیے بہترین مواقع پیدا کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں