ترسیلات زرکی خلیجی ممالک سے فوری منتقلی میں بڑی پیش رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

خلیجی ممالک سے ترسیلات زر کی فوری منتقلی کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان اور عرب مانیٹری فنڈ نے اشتراک کے نئے نظام کے قیام پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔

اس حوالے سے پاکستان کے مرکزی بینک کے سربراہ نے گذشتہ دنوں ابوظہبی میں کثیر الملکی عرب مانیٹری فنڈ (AMF) کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس سے ترسیلات زر کے فوری سرحد پار ادائیگی کے نظام کے لیے ایک فریم ورک بنایا جا سکے۔

اس سے دونوں علاقوں کے ادائیگی کے ڈیجیٹل نظام کو آپس میں بتدریج طریقے سے براہ راست منسلک کردیا جائے گا۔

مشرق وسطیٰ میں تعمیرات، خدمات، صحت کی دیکھ بھال اور آئی ٹی جیسے مختلف شعبوں میں ملازمت کرنے والے پاکستانیوں کی ایک قابل ذکر تعداد رہائش پذیر ہے ۔اس ایم پیش رفت سے نہ صرف یہ سمند پار پاکستانی فائدہ اٹھا سکیں گے بلکہ یہ قدم پاکستان کی معیشت کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ترسیلات زر کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

یاد رہے کہ سال 1976 میں قائم کیا گیا،AMF سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے اہم عرب اور افریقی ممالک کی ایک تنظیم ہے۔ اس کے ممبران کی تعداد 22 ہو چکی ہے جو کہ عرب ممالک اور خطے میں مالی تعاون اور مارکیٹ کی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

مفاہمت کی یہ یادداشت پاکستان کے راست فوری ادائیگی کے نظام کو عرب ریجنل پیمنٹ کلیئرنگ اینڈ سیٹلمنٹ آرگنائزیشن (ARPCSO) کے بونا(Buna) پلیٹ فارم کے ساتھ مربوط کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔

اس اہم پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبداللہ الحامدی، جو کہ اے ایم ایف کے ڈائریکٹر جنرل اور بورڈ کے چیئرمین، اور اے آر پی سی ایس او کے بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں نے کہا آن لائن رقم کی ادائیگی کو رواج دینے کے لیے یہ درست سمت میں قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ راست کے رقم کے آن لائن ادائیگی نظام کے ساتھ یہ تزویراتی تعاون مختلف خطوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور عرب خطے اور اس کے اہم عالمی شراکت داروں کے درمیان اقتصادی، مالیاتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے بونا کے پلیٹ فارم پر کی جانے والی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ انفرادی سطح پر اور کارپوریٹس کے لیے محفوظ اور موثر سرحد پار رقم کی فوری ادائیگیوں تک رسائی دینے اور ترسیل زر کے اختراعی طریقہ کار کو اپنانے کے مشترکہ وژن کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

الحامدی نے بتایا کہ اخراجات اور پروسیسنگ کے وقت کو کم کرکے سرحد پار ترسیلات زر میں اضافہ کرنا اہم پیش رفت ہے۔ اور اس حوالے سے یہ موثر طریقہ کار بونا پلیٹ فارم کے عالمی جدت سے ہم آہنگ ہونے کی بھی تصدیق ہے۔

پاکستان کے مرکزی بینک کے گورنر نے مفاہمت کی یادداشت کو ایک اہم سٹریٹجک کامیابی قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ پاکستان اور عرب خطے کے درمیان قریبی روابط کا نیا باب ثابت ہو گا۔

انہوں نے کہا، "SBP اور AMF کے درمیان اس تعاون کو ایک جدید ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے نظام کی تشکیل اور سرحد پار انضمام سے فائدہ اٹھانے کے ہمارے وژن کے مطابق ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ادائیگیوں کے دو نظاموں کے انضمام سے پاکستان کو باضابطہ ذرائع سے ترسیلات زر میں اضافہ ہو گا۔ اس نظام کی رفتار، محفوظ ہونا اور سرحد پار لین دین میں بچت طرہ امتیاز ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ عرب خطے میں 50 لاکھ سے زیادہ پاکستانی مقیم ہیں اور عرب ممالک سے موصول ہونے والی رقم پاکستان کی کل ترسیلات کا تقریباً 55 فیصد ہے۔

مرکزی بینک چاہتا ہے کہ اس نئے نظام کو مربوط کرک ے کم سے کم وقت میں راست اور بونا کے درمیان رابطے کو فعال کیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں