پاکستانی-کینیڈین ہارر فلم ’اِن فلیمز‘ نے ریڈ سی فلم فیسٹیول میں اعلیٰ ایوارڈ جیت لیا

آسکرز کی بین الاقوامی فیچر کیٹیگری میں بھی فلم ان فلیمز بھیجی گئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستانی فلم "اِن فلیمز" نے ریڈ سی فلم فیسٹیول میں بہترین فیچر فلم کا گولڈن یسر جیت لیا ہے۔ ریڈ سی فلم فیسٹیول کا تیسرا ایڈیشن 30 نومبر سے 9 دسمبر تک جدہ میں جاری ہے۔ یاد رہے کہ اِن فلیمز کو آسکر کی بین الاقوامی فیچر کیٹیگری میں بھی پاکستان کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔

ریڈ سی فلم فیسٹیول کی تقریب جس میں ول اسمتھ، جانی ڈیپ، کرس ہیمس ورتھ اور شیرون اسٹون جیسے ہالی ووڈ کے ستارے بھی موجود تھے، اس فیسٹیول نے جمعرات کی شام کو ریڈ سی کے اعزازات یسر ایوارڈز کے ساتھ ساتھ دیگر انعامات کے فاتحین کے ناموں کا اعلان کیا۔

پاکستانی-کینیڈین ہدایت کار اور مصنف ضرار کاہن نے کہا کہ ان کی انڈی فلم صرف 300,000 امریکی ڈالر میں بنائی گئی جو ریڈ سی فنڈ پروڈکشن گرانٹ کے برابر ہے۔"

گذشتہ مہینے ان فلیمز نے 72 ویں انٹرنیشنل فلم فیسٹیول مین ہائم ہائیڈل برگ میں انٹرنیشنل نیوکمر (بین الاقوامی نوآموز) ایوارڈ جیتا تھا۔ اس سال کے شروع میں مئی میں یہ ہارر ڈرامہ فلم 43 سالوں میں دوسری پاکستانی فلم تھی جس نے ڈائریکٹرز فورٹ نائٹ میں جگہ بنائی۔ یہ ایک ایسا ایونٹ ہے جو معروف کانز فلم فیسٹیول کے متوازی چلتا ہے۔ اکتوبر میں فلم کو آزادانہ طور پر پاکستان کے جنوبی کراچی شہر کے ایٹریئم سینما گھروں میں 12 دن کے لیے ریلیز کیا گیا تھا جسے بعد میں 9 نومبر تک بڑھا دیا گیا تھا۔ یہ فلم ٹورنٹو، بوسان، سیٹجز، ساؤ پالو اور پنگیاؤ کے میلوں میں بھی شریک ہو چکی ہے۔

پاکستانی فلم "اِن فلیمز" نے ریڈ سی فلم فیسٹیول میں بہترین فیچر فلم کا گولڈن یسر جیت لیا ہے۔ ریڈ سی فلم فیسٹیول کا تیسرا ایڈیشن 30 نومبر سے 9 دسمبر تک جدہ میں جاری ہے۔ یاد رہے کہ اِن فلیمز کو آسکر کی بین الاقوامی فیچر کیٹیگری میں بھی پاکستان کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔ ریڈ سی فلم فیسٹیول کی تقریب جس میں ول اسمتھ، جانی ڈیپ، کرس ہیمس ورتھ اور شیرون اسٹون جیسے ہالی ووڈ کے ستارے بھی موجود تھے، اس فیسٹیول نے جمعرات کی شام کو ریڈ سی کے اعزازات یسر ایوارڈز کے ساتھ ساتھ دیگر انعامات کے فاتحین کے ناموں کا اعلان کیا۔ پاکستانی-کینیڈین ہدایت کار اور مصنف ضرار کاہن نے کہا کہ ان کی انڈی فلم صرف 300,000 امریکی ڈالر میں بنائی گئی جو ریڈ سی فنڈ پروڈکشن گرانٹ کے برابر ہے۔" گذشتہ مہینے ان فلیمز نے 72 ویں انٹرنیشنل فلم فیسٹیول مین ہائم ہائیڈل برگ میں انٹرنیشنل نیوکمر (بین الاقوامی نوآموز) ایوارڈ جیتا تھا۔ اس سال کے شروع میں مئی میں یہ ہارر ڈرامہ فلم 43 سالوں میں دوسری پاکستانی فلم تھی جس نے ڈائریکٹرز فورٹ نائٹ میں جگہ بنائی۔ یہ ایک ایسا ایونٹ ہے جو معروف کانز فلم فیسٹیول کے متوازی چلتا ہے۔ اکتوبر میں فلم کو آزادانہ طور پر پاکستان کے جنوبی کراچی شہر کے ایٹریئم سینما گھروں میں 12 دن کے لیے ریلیز کیا گیا تھا جسے بعد میں 9 نومبر تک بڑھا دیا گیا تھا۔ یہ فلم ٹورنٹو، بوسان، سیٹجز، ساؤ پالو اور پنگیاؤ کے میلوں میں بھی شریک ہو چکی ہے۔ اس ماہ کے شروع میں عرب نیوز کو ایک انٹرویو میں اداکار بختاور مظہر نے ان فلیمز کو ایک نفسیاتی تھرلر قرار دیا جو خاندان کے مرد سرپرست کے کھو جانے کے بعد ایک ماں (مظہر) اور اس کی بیٹی (رمیشا نوال) کی جدوجہد پر مبنی ہے۔ فلم کو انعم عباس نے پروڈیوس کیا ہے۔ نوال نے عرب نیوز کو بتایا، "اگرچہ اس فلم کی شوٹنگ کراچی میں کی گئی تھی لیکن دنیا بھر کی خواتین [فلم دیکھنے کے بعد] رو رہی تھیں گویا وہ کہہ تھیں، ہم جانتی ہیں کہ یہ کردار کس جدوجہد سے گذرا ہے، ہم فریحہ اور مریم کی جدوجہد کو جانتی ہیں۔" اگلے سال 96 ویں اکیڈمی ایوارڈز کے لیے غیر ملکی زبان کی فلم کیٹیگری کے تحت "ان فلیمز" پاکستان کی باضابطہ پیشکش بھی ہے۔

اس ماہ کے شروع میں عرب نیوز کو ایک انٹرویو میں اداکار بختاور مظہر نے ان فلیمز کو ایک نفسیاتی تھرلر قرار دیا جو خاندان کے مرد سرپرست کے کھو جانے کے بعد ایک ماں (مظہر) اور اس کی بیٹی (رمیشا نوال) کی جدوجہد پر مبنی ہے۔ فلم کو انعم عباس نے پروڈیوس کیا ہے۔

نوال نے عرب نیوز کو بتایا، "اگرچہ اس فلم کی شوٹنگ کراچی میں کی گئی تھی لیکن دنیا بھر کی خواتین [فلم دیکھنے کے بعد] رو رہی تھیں گویا وہ کہہ تھیں، ہم جانتی ہیں کہ یہ کردار کس جدوجہد سے گذرا ہے، ہم فریحہ اور مریم کی جدوجہد کو جانتی ہیں۔"

اگلے سال 96 ویں اکیڈمی ایوارڈز کے لیے غیر ملکی زبان کی فلم کیٹیگری کے تحت "ان فلیمز" پاکستان کی باضابطہ پیشکش بھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں