پاکستان کے ثقافتی دارالحکومت میں موسمِ سرما میں مصالحہ دار مچھلی کی گرمائش

قدیم لاہور کے گڑھی شاہو میں 1970 سے قائم صدیق مچھلی فروش شوقین افراد کے شوق کی تکمیل کر رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لاہور جہاں خورونوش کی بھرپور ثقافت اور اعلیٰ درجے کے ریستورانوں اور سڑک کے کنارے مختلف قسم کے کھانوں کی پیشکش کے لیے مشہور ہے، وہیں عشروں سے گاہکوں کی خدمت کرنے والی کچھ دکانیں ایسی بھی ہیں جو ایک وسیع اور تفصیلی فہرستِ طعام کو اپنانے سے انکاری ہیں۔

صدیق فش کارنر یا صدیق مچھلی فروش ایسی ہی ایک جگہ ہے جو مچھلی کے شوقین افراد کے لیے خورونوش کا ایک معروف مقام ہے جس نے 1970 میں قدیم لاہور کے گنجان آباد گڑھی شاہو محلے سے عاجزانہ ابتدا کی۔ آج 11 ملین سے زیادہ آبادی والے اور پاکستان کے دوسرے بڑے شہر کے طول و عرض میں اس کی درجنوں شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔

اگرچہ صدیق سال بھر مصروف رہتا ہے لیکن موسمِ سرما میں گاہکوں کی بڑی تعداد وہاں آتی ہے جنہیں تازہ تیارکردہ تِکوں اور "خصوصی مصالحہ جات" اور سرسوں کے تیل میں تیار کردہ تلی ہوئی اور آگ پر سینکی ہوئی مچھلی کی خوشبو اور ذائقہ وہاں کھینچ لاتے ہیں۔

صدیق فش کارنر کے مینیجر بشارت حسین نے ریستوران کے ایک آؤٹ لیٹ پر عرب نیوز کو بتایا، "ہم سرسوں کے، خالص سرسوں کے تیل میں خود اپنے تیارکردہ مصالحہ جات سے [مچھلی] بناتے ہیں۔ ہم مصالحہ دار مچھلی بناتے ہیں۔ اس لیے لوگ دور دور سے یہاں کھانے کے لیے آتے ہیں۔"

2 دسمبر 2023 کو لاہور، پاکستان میں صدیق فش کارنر کے باہر گاہک مچھلی خریدنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔ (اے این)
2 دسمبر 2023 کو لاہور، پاکستان میں صدیق فش کارنر کے باہر گاہک مچھلی خریدنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔ (اے این)

"سرسوں کے تیل کے کوئی مضر اثرات نہیں ہوتے۔ دل کے مریض بھی اسے کھا سکتے ہیں کیونکہ یہ جمتا نہیں۔"

مینیجر نے مزید کہا، دکان دریائے چناب سے رہو مچھلی (لیبیو روہیتا) حاصل کرتی ہے اور شہر کے مضافات میں اس کے اپنے افزائشی فارم ہیں۔

سالوں کے دوران صدیق فش کارنر نے اپنے منفرد ذائقے کی وجہ سے شہرت حاصل کی ہے۔

2 دسمبر 2023 کو لاہور، پاکستان میں صدیق فش کارنر میں صارفین کو مچھلی پیش کی جا رہی ہے۔ (اے این)
2 دسمبر 2023 کو لاہور، پاکستان میں صدیق فش کارنر میں صارفین کو مچھلی پیش کی جا رہی ہے۔ (اے این)

ایک کارپوریٹ ملازم اور صدیق کے باقاعدہ گاہک نوید سلیمان کہتے ہیں، "ہم برسوں سے یہاں کی مچھلی کھا رہے ہیں۔" اس دوران وہ مچھلی کے تِکّوں کے آرڈر کا انتظار کر رہے تھے۔

"مچھلی کا ذائقہ اور یہاں پہ پکانے کا طریقہ بہت مختلف ہے۔ ان کے خاص مصالحہ جات کی وجہ سے آپ دیکھتے ہیں کہ یہ دیگر دکانوں سے الگ ہے۔"

مصطفی کھرل جیسے طلباء کے لیے کھانے کی جگہ صرف ایک ریستوراں سے زیادہ ہے: یہ دوستوں کے ساتھ موسمِ سرما کی یادیں بنانے کی ایک جگہ ہے۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "سردیوں کے شروع ہوتے ہی میرے سب دوستوں نے رات کے کھانے کے لیے کہیں باہر جانے کا ارادہ کیا۔ میں نے [اپنے حلقے میں] کچھ لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے یہ جگہ بتائی۔ ویسے تو میں یہاں پہلے بھی آیا ہوں لیکن ان دوستوں کو یہاں [پہلی بار] لایا ہوں۔ ہم واقعی اس [مچھلی] سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں