مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت پر بھارتی عدلیہ کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں: پاکستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق درخواستوں پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کر دیا۔

نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کا اسلام آباد میں پریس کرتے ہوئے کہنا تھا مقبوضہ کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ایک متنازع علاقہ ہے لہذا بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے متنازع علاقے کے تعین کا کوئی حق نہیں ہے۔

واضح رہے کہ آج بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کی منسوخی اور اسے مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے پانچ اگست 2019 کے متنازع فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو مسترد کر دیا اور الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ ستمبر 2024 تک مقبوضہ جموں و کشمیر میں انتخابات کرائے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی، ریاستی اسمبلی کے انتخابات کا انعقاد یا اسی طرح کے اقدامات کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی فراہمی کے متبادل کے طور پر کام نہیں کر سکتے، یہ فیصلہ انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزی سے بین الاقوامی برادری کی توجہ نہیں ہٹا سکتا۔

جلیل عباس جیلانی کا کہنا تھا کہ پانچ اگست 2019 سے جاری بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کا مقصد آبادیاتی ڈھانچے اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے مخصوص منظر نامے کو تبدیل کرنا ہے۔

انہوں نےکہا کہ بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں بالخصوص 1957 کی 122 کی کھلم کھلا خلاف ورزی پاکستان کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے کیونکہ اس کا حتمی مقصد کشمیریوں کو ان کی اپنی سرزمین پر ایک بے اختیار کمیونٹی میں تبدیل کرنا ہے۔

جلیل عباس جیلانی کا کہنا تھا کہ امن اور بات چیت کا ماحول بنانے کے لیے ان اقدامات کو واپس لینا چاہیے، پاکستان جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے اپنی بھرپور سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا.

انہوں نے بتایا کہ ہم جلد ہی تمام اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس بلائیں گے اور آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے، جموں و کشمیر عالمی سطح پر ایک تنازعہ ہے ،جموں کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرادادیں موجود ہیں، بھارت کو کسی قسم کے یکطرفہ اقدامات کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

نگران وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ہے، کشمیری عوام بھارتی یکطرفہ اقدامات کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں، بھارتی اقدامات عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، بھارتی اقدامات کشمیریوں کی نسل کشی اور ان کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔

جلیل عباس جیلانی نے بتایا کہ اس معاملے پر سیکورٹی کونسل، او آئی سی اور یورپی پارلیمنٹ کو خطوط لکھیں گے، پاکستان یہ معاملہ تمام سٹیک ہولڈرز کے سامنے اٹھائے گا، پاکستان بھارت کے یکطرفہ اقدامات پہلے ہی دنیا کے سامنے رکھ چکا ہے، اقوام متحدہ ، یورپی یونین اور او آئی سی سمیت تمام عالمی فورمز 5 اگست کے بھارتی اقدامات سے آگاہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر طویل عرصے سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب مسئلہ ہے، اس کے حل کے لئے اقوام متحدہ کی قراراداوں پر عمل کرنا ہو گا، پاکستان بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہر آپشن زیر غور لائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کا فیصلہ بھی جانبداری سے دیا اور آج کا فیصلہ بھی اسی نوعیت کا ہے، بھارتی عدلیہ بدقسمتی سے اندھی ہو چکی ہے،5 اگست 2019 سے آج تک کشمیری عوام پابندیوں کا شکار ہیں، کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جاری ہیں، کشمیر میں ظلم و بربریت کی ایک نئی داستان قائم کی گئی، بھارت نے مبصر مشن کو بھی مقبوضہ کشمیر آنے کی اجازت نہیں دی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بھارتی قانونی ماہرین بھی سپریم کورٹ فیصلوں میں تضادات کی نشاندہی کر رہے ہیں، بھارت کا کشمیر پر کیس بہت کمزور ہے، بھارت نے مختلف ممالک میں دہشت گردی اور قتل کا جو جال بنایا اس سے اس کی ساکھ گر گئی ہے۔

نگران وزیر خارجہ کا کہنا تھا پاکستان کی کوشش ہے لائن آف کنٹرول پر امن رہے، گزشتہ دو تین سال سے لائن آف کنٹرول پر امن ہے، امن نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ سے اپنی ہی قرارداوں پر عملدرآمد کروانے کا مطالبہ کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں