'پٹہ تکہ': شمال مغربی پاکستان میں چربی کے ساتھ میمنے کی کلیجی ایک دل پسند پکوان

نمک اور چربی کے ساتھ بننے والی میمنے کی کلیجی شنواری پشتون قبیلے کا ایک روایتی پکوان موسمِ سرما میں بہت مقبول ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

نور زادہ شنواری نے انگیٹھی کے اوپر رکھی نصف درجن سیخوں سے اپنے ہاتھ بھر رکھے ہیں۔ پھڑپھڑاتی آنکھوں کے ساتھ وہ کچے گوشت والی ایک سیخ کو جلتے ہوئے کوئلوں کے اوپر رکھ دیتے ہیں اور چکنائی میں لپٹے میمنے کی کلیجی کے پکنے کا انتظار کرتے ہیں۔

جب لوگ پشاور سے شمال مغربی ضلع خیبر میں پاکستان-افغان طورخم گذرگاہ تک سڑک پر سفر کرتے ہیں تو چربی اور نمک ملے گوشت کی خوشبو انہیں خوش آمدید کہتی ہے۔ وہاں ایک شخص کو کم از کم ایک درجن دکانیں نظر آتی ہیں جو گوشت کی شاندار اور لذید ڈش پیش کرتی ہیں جسے ’پٹہ تکہ‘ کہا جاتا ہے۔

پشتون شنواری قبیلہ جو افغانستان کے مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں اور پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں رہائش پذیر ہے، پٹہ تکہ ان کا ایک روایتی پکوان ہے۔

"پٹہ" پشتو زبان کا لفظ ہے جس کا ترجمہ "پوشیدہ" ہوتا ہے اور ڈش کو پٹہ تکہ اس کی تیاری کے طریقے کی وجہ سے کہا جاتا ہے: میمنے کی کلیجی کو گرم کوئلے پر تقریباً 30 منٹ تک پکانے سے پہلے اسے اس کی چربی میں ڈبو دیا جاتا ہے۔

اور کھانے کی دیگر اشیاء کے برعکس اس میں مصالحہ یا پسی ہوئی مرچ جیسے اجزاء کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بس ایک چٹکی نمک اور آپ کا لذیذ پٹہ تکہ کھانے کے لیے تیار ہے۔

شنواری نے میمنے کا گوشت پکاتے ہوئے مصروف انداز عرب نیوز کو بتایا، "یہ میمنے کی کلیجی اور چربی ہے، ہم اس سے پٹہ تکہ بناتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم کلیجی کو آدھا پکاتے ہیں اور پھر اسے چربی میں لپیٹتے ہیں۔ جگر اور چربی دونوں میمنے کی ہیں۔"

شنواری گذشتہ 10 سالوں سے ضلع خیبر میں پٹہ تکہ تیار کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ ڈش سردیوں کی ایک مشہور غذا ہے لیکن گرمیوں میں بھی اس کا مزہ لیا جاتا ہے۔

شنواری نے کہا، "لوگ اسے سردیوں میں زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ویسے یہ گرمیوں میں بھی فروخت ہوتا ہے۔"

چربی کو ہضم کرنا البتہ مشکل ہے اور گوشت نمکین ذائقہ دیتا ہے. تیل والا پکوان بھاری ہوتا ہے اور شنواری کے مطابق ایک شخص ایک نشست میں بہت زیادہ نہیں کھا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ کھانے کے شوقین تین سیخیں کھانے کی کوشش کر سکتے ہیں ورنہ دو سے زیادہ کھانا مشکل ہے۔

یہ پکوان البتہ مہنگا نہیں ہے۔ پٹہ تکے کی ایک سیخ جس میں میمنے کے جگر کے 9-10 چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں، کی قیمت 200 روپے ($0.71) ہے۔

2000 کے عشرے کے دوران پٹہ تکے کے کاروبار کو فروغ ملا جس کی وجہ سے پشاور-خیبر روڈ پر واقع کارخانو مارکیٹ میں پکوان فروخت کرنے والی کئی دکانیں بن گئیں۔

حاجی کمین جان شنواری ریستوران میں کام کرتے تھے۔ انہوں نے 2000 میں اپنا ریستوران قائم کیا جس میں ابتدائی طور پر صرف تین افراد کام کرتے تھے۔

جان جو کارخانو مارکیٹ میں پٹہ تکہ کے سرخیلوں میں سے ایک ہیں، نے اپنے ریسٹورنٹ کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ اب اس میں تقریباً 21 ملازمین ہیں۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "پٹہ تکہ تب سے [2000] کھایا جا رہا ہے البتہ لوگوں کو اُس وقت اس کے بارے میں علم نہیں تھا۔"

جان نے کہا کہ صرف شمال مغربی قصبے لنڈی کوتل کے لوگ، آفریدی اور شنواری (قبائل) پہلے اسے کھاتے تھے جبکہ دوسروں کو یہ پسند نہیں تھا۔

اب گاہک دور دراز علاقوں سے پٹہ تکہ آزمانے کے لیے آتے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ ڈش اپنی مناسب قیمت کی وجہ سے مقبول ہے۔

28 سالہ محمد عمار بابر شمال مغربی پاکستان کے ضلع نوشہرہ سے کارخانو مارکیٹ میں اپنے دوستوں کے ساتھ پٹہ تکہ آزمانے آئے تھے۔

بابر نے عرب نیوز کو بتایا، "یہ جگہ اس [پٹہ تکہ] کے لیے خاص ہے۔ ہر جگہ کی کوئی نہ کوئی خاصیت ہوتی ہے۔ کارخانو اس قسم کے پٹہ تکے کے لیے مشہور ہے۔"

پاکستان کے جنوبی شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک گاہک نوید احمد اس ڈش کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔

احمد نے عرب نیوز کو بتایا، "میں یہاں پہلی بار آیا ہوں اور میں نے یہ پٹہ دانہ [تکہ] ڈش پہلی بار لی اور مجھے اس سے بہت لطف آیا۔"

پٹہ تکے کی قیمت مناسب ہے اور جان کو زیادہ پیسے نہیں ملتے ہیں۔ تاہم کھانے کی یہ چیز پیش کرنے کی یہ وجہ نہیں۔

انہوں نے کہا، "یہ [پٹہ تکہ] ہمیں پیسہ تو کما کر نہیں دیتا لیکن اخراجات پورے کر دیتا ہے۔ لیکن جب ہم پٹہ تکہ لگاتے ہیں تو یہ گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں