پاکستان میں خودکش حملوں کے حوالے سے رواں سال 2013 کے بعد بد ترین رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان میں رواں سال ایک مرتبہ پھر خود کش حملوں میں شدت پیدا ہوئی اور یہ حملے 29 کی تعداد کو چھو گئے ، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 329 رہی۔ یہ 2014 سے لے کراب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اسلام آباد میں قائم ایک تھنک ٹینک نے یہ انکشاف اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں نومبر 2022 میں یہ خود کوش دھماکے شروع ہو گئے، جب ٹی ٹی پی سے منسلک دہشت گردوں نے کارروائیاں تیز کر دیں، سب سے زیادہ صوبہ خیبر پختونخوا ان دھماکوں کی زد میں آیا۔

خیبر پختونخوا کے ساتھ افغان سرحد کا طویل حصہ لگتا ہے۔ یہ عسکریت پسندوں کے حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ پشاور میں پولیس لائنز مسجد حملے میں 80 سے زیادہ لوگ جاں بحق ہو گئے۔

'پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز ' کی رپورٹ کے مطابق 2023 میں پاکستان کو ایک بد ترین لہر کا تجربہ کرنا پڑا اور یہ خود کش دھماکے 2014 کے بعد ایک نیا ریکارڈ قائم کر گئے۔

مجموعی طور پر ملک کے مختلف حصوں میں 29 خود کش دھماکے ہوئے۔ جن میں مجموعی طور پر 329 شہری موت کے گھاٹ اتر گئے جبکہ 582 شہری زخمی ہو گئے۔

اس سے قبل 2013 مین پاکستان میں 47 خود کش حملے ہوئے تھے اور مجموعی طور جاں بحق افراد کی تعداد 683 رہی تھی۔ تاہم اس کے بعد کافی حد تک یہ واقعات رک گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق اب 2023 میں کیے گئے خود کش حملے پچھلے سال کے مقابلے میں 93 فیصد زیادہ رہے۔ جبکہ ہلاکتوں میں 226 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

علاوہ ازیں مجموعی طور پر سال بھر میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں فیصد 4.7 فیصد بڑھ گیا۔ 2022 میں یہ 3.9 فیصد تھا۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں 254 افراد ہلاک اور 512 زخمی ہو گئے۔ جبکہ کل 29 خود کش حملوں میں سے 23 اسی صوبے میں کیے گئے۔

پاکستان میں سال بھر میں ہونےوالے ان دہشت گردی کے واقعات میں بالعموم سیکیورٹی فورسز کو ہی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی سے ہونےوالی ہلاکتیں 67 رہیں اور زخمیوں کی تعداد 52 رہی۔ اسی طرح صوبہ سندھ میں 8 شہری جاں بحق ہوئے اور 18 زخمی ہوئے۔

سال 2023 میں ہونےوالے دہشت گردی واقعات کے دوران ہلاک ہونےوالوں میں 48 فیصد سیکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل رہے جبکہ زخمیوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کا تناسب 58 فیصد رہا ۔

مقبول خبریں اہم خبریں