حج سپانسر سکیم کے لیے پاکستان کو صرف 3800 درخواستیں موصول ہو سکیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حج سپانسرشپ سکیم کی تحت پاکستان کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ڈیڈ لائن مکمل ہونے سے تھوڑی دیر پہلے تک صرف 3800 ایسی درخواستیں موصول ہو سکی ہیں۔ یہ تعداد سپانسر شپ سکیم کے لیے طے کردہ تعداد 25000 کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

واضح رہے اس سکیم کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانی حج کے لیے درخواست دینے یا امریکی ڈالر میں حکومت پاکستان کو ادائیگی کر کے اپنے کسی عزیز ، رشتہ دار کو حج کرانے کی سپانسر شپ دیتے ہیں، جبکہ حکومت پاکستان کے ریگولر کوٹے کی تعداد 64000 مختص کی گئی ہے۔

وزارت مذہبی امور نے بھی اس بارے میں تصدیق کی ہے کہ اتوار کے روز جب سپانسرشپ کے تحت حج درخواستیں جمع کرانے کا وقت ختم ہو رہا تھا تو صرف 3800 سے چند درخواستیں زیادہ ملی تھیں۔

اس سپانسر شپ سکیم کا مقصد حکومت پاکستان کو ڈالرز کی شکل میں رقوم کی فراہمی اہم ہے ، تاہم اس کے بدلے میں سپانسر شپ حاصل کرنے والوں کو حج کے لیے قرعہ اندازی کی شرط سے گذرے بغیر ہی حج کی سعادت کا موقع ملنے کا امکان ہوتا ہے۔ ان کے قریبی رشتہ دار بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

آنے والے حج سیزن کے لیے پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے 179210 افراد کے لیے حج کرنے کا کوٹہ ملا تھا، حکومت پاکستان نے اس میں سے 89000 کی تعداد میں کوٹہ سرکاری سکیموں کی ذیل میں رکھا تھا۔

وزارت مذہبی امور کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حج سپانسرشپ سکیم کی آخری تاریخ گذرنے کے بعد اس میں توسیع نہیں کی جارہی ۔

کیونکہ پاکستان میں حج پراسس کا سارا شیڈول سعودی شیڈول سے منسلک ہے اوردو جنوری تک پاکستان نے سعودی عرب کو اپنے عازمین حج کی رپورٹ پیش کرنا ۔ تاکہ ان کے لیے حج فلائٹس کا انتظام اپنے نظام الاوقات کے تحت ممکن ہو سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں